پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے صرف سفارتی تعلقات کی بحالی یا معمول پر لانے کے معاہدے کافی نہیں، بلکہ خطے کے پیچیدہ تاریخی، سیاسی، ثقافتی اور مذہبی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن سفارت کاری اور حقیقی سیاسی عمل ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس ’مشرق وسطیٰ میں سیاسی حل کے فروغ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے امکانات بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور حقیقی سیاسی عمل کے فقدان کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’معرکۂ حق‘ پاکستان کے لیے قومی طاقت اور اسٹریٹجک وضاحت کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا، عاصم افتخار
انہوں نے کہا کہ عرب اسرائیل تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ مشرق وسطیٰ دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں تاریخ، شناخت، ثقافت، تہذیب اور مذہب گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان حقائق کو نظرانداز یا آسان بنا کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ امن کی کوششوں میں ان حساس معاملات کو احتیاط، توازن، غیر جانبداری اور گہری سمجھ بوجھ کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کسی بھی پائیدار امن کے لیے صرف معمول پر آنے والے تعلقات کے معاہدے کافی نہیں، بلکہ بنیادی تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ سیاسی عمل ضروری ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر ممالک کو ابراہام معاہدوں میں شامل ہونے کی تجویز دی تھی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اقتصادی تعاون اور تعلقات کو وسعت دینا قرار دیا گیا تھا۔
پاکستان نے اس تجویز پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ ایسے کسی انتظام کا حصہ نہیں بن سکتا جو اس کے بنیادی نظریاتی مؤقف سے متصادم ہو۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی قائم نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار
پاکستان تاریخی طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی رہا ہے، جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی بنیاد پر ہوں اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستانی مندوب نے غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 3 سال کے تباہ کن تنازع اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد انسانی بحران انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسئلہ خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کا مرکزی نقطہ ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک مقررہ مدت پر مبنی ناقابل واپسی سیاسی عمل کے ذریعے ایک خودمختار، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔












