افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کا اسکینڈل، ایف آئی اے کی تحقیقات میں منظم نیٹ ورک بے نقاب

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کے معاملے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں ایک منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ سہولتکاروں، ایجنٹوں، جعلی شناخت استعمال کرنے والے افراد، محکمہ پاسپورٹ اور نادرا کے بعض اہلکاروں پر مشتمل ایک منظم گروہ افغان شہریوں کو پاکستانی شہری ظاہر کرکے انہیں پاسپورٹ جاری کرانے میں سرگرم تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ نیٹ ورک جعلی، بوگس اور ردوبدل شدہ دستاویزات، بشمول فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات تیار کرکے غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی ظاہر کرتا اور انہیں قومی شناختی دستاویزات و پاسپورٹ کے حصول میں مدد فراہم کرتا تھا۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے میں پاسپورٹ سروسز 2 روز کے لیے بند رہیں گی

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کے پاسپورٹ آفس عوامی مرکز برانچ سے مجموعی طور پر 72 افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیے گئے۔ ان میں سے 53 پاسپورٹ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فاروق سیال جبکہ 19 پاسپورٹ نائٹ شفٹ انچارج محمد باقر رضا کی جانب سے پراسیس کیے گئے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق یہ پاسپورٹ درخواست دہندگان کی اصل شناخت اور شہریت سے متعلق اہم معلومات چھپاتے ہوئے اور مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیے گئے۔

اطلاعات موصول ہونے پر ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کراچی میں باقاعدہ انکوائری درج کی گئی۔ بعد ازاں تفتیشی ٹیم نے کراچی کے ریجنل پاسپورٹ آفس (صدر) سے تمام 72 درخواستوں کا ریکارڈ، درخواست فارم اور متعلقہ دستاویزات تحویل میں لے لیے۔

Green-Passport

ابتدائی جانچ کے دوران متعدد درخواستوں میں سنگین بے ضابطگیاں، مشکوک اندراجات اور دستاویزات میں ردوبدل کے واضح شواہد سامنے آئے، جن سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ معاملہ انفرادی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط دھوکا دہی کے منصوبے کا حصہ تھا۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق کئی پاسپورٹ مشتبہ یا جعلی دستاویزات کی بنیاد پر جاری کیے گئے۔ متعدد کیسز میں فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس اور دیگر شناختی ریکارڈ میں تضادات اور غیر معمولی خامیاں پائی گئیں، جنہوں نے ان دستاویزات کی صداقت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

مزید پڑھیں:امریکا، ایران جنگ بندی میں کلیدی کردار، پاکستانی پاسپورٹ کی پہچان پوری دنیا میں بڑھ گئی

مزید برآں بعض درخواستوں میں تصاویر کی تبدیلی اور ٹیمپرنگ کے شواہد بھی ملے، جن کا مقصد درخواست دہندگان کی حقیقی شناخت کو چھپانا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف درخواستوں میں ایک ہی موبائل نمبرز بار بار استعمال کیے گئے، حالانکہ وہ بظاہر مختلف افراد کے ناموں پر درج تھے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ تمام شواہد ایک منظم پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواستوں کے پیچھے مشترکہ ایجنٹوں اور سہولت کاروں کا فعال نیٹ ورک کام کر رہا تھا، جبکہ بعض سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔

ایف آئی اے نے معاملے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان