وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے 26-2025 (اقتصادی سال 2026) پیش کر دیا ہے، جس کے مطابق پاکستان میں تعلیمی شعبے میں بہتری کا رجحان برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی شرحِ خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے، جو ملک بھر میں تعلیمی فروغ اور اسکولوں تک رسائی بڑھانے کے حکومتی اقدامات کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
صنفی بنیادوں پر شرحِ خواندگی
اقتصادی سروے کے اعداد و شمار کے مطابق، 10 سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں مردوں کی شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین کی شرحِ خواندگی 54 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگرچہ صنفی فرق اب بھی ایک چیلنج ہے، تاہم خواتین کی تعلیم میں پیش رفت نے اس خلیج کو بتدریج کم کرنا شروع کر دیا ہے۔
شہری اور دیہی علاقوں میں فرق
رپورٹ میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی تفاوت کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کےشہری علاقوں میں مجموعی شرحِ خواندگی 74 فیصد (مرد 81 فیصد، خواتین 68 فیصد رہی ہے۔ جبکہ دیہی علاقوں میں مجموعی شرحِ خواندگی 55 فیصد (مرد 67 فیصد، خواتین 44 فیصد) رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:قومی اقتصادی سروے : چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
اقتصادی سروے کے مطابق، دیہی خواتین کی شرحِ خواندگی میں نسبتاً زیادہ اضافہ سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کی گئی کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں خواتین کی خواندگی میں مزید نمایاں بہتری متوقع ہے۔
صوبائی کارکردگی کا موازنہ
صوبائی سطح پر تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے پنجاب 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سرِفہرست رہا۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں شرحِ خواندگی 58 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ بلوچستان 49 فیصد شرح کے ساتھ سب سے نچلی سطح پر رہا۔ رپورٹ میں شہری پنجاب (78 فیصد) اور دیہی سندھ (39 فیصد) کے درمیان واضح تعلیمی فرق کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
مستقبل کے اقدامات کی ضرورت
اقتصادی سروے کے مطابق ماہرین نے شرحِ خواندگی میں مجموعی بہتری کو خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے دیہی علاقوں اور خصوصاً خواتین کی تعلیم پر مزید سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی عدم مساوات کا خاتمہ ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کلید ہے۔













