فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

جمعرات 11 جون 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز آج شب (11 جون) میکسیکو سٹی کے تاریخی ایستادیو ازٹیکا میں ہوگا، جہاں ایک شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ فٹبال کے سب سے بڑے عالمی ایونٹ کی باقاعدہ شروعات ہوگی۔ پاکستان وقت کے مطابق یہ رنگا رنگ تقریب رات کے ابتدائی حصے میں متوقع ہے، جس کے فوراً بعد افتتاحی میچ کھیلا جائے گا۔ اس بار پہلی مرتبہ 3 مختلف ممالک میں علیحدہ افتتاحی تقریبات بھی منعقد ہوں گی، جو اس ورلڈ کپ کو مزید منفرد اور تاریخی بنا رہی ہیں۔

یہ صرف ایک ورلڈ کپ نہیں بلکہ عالمی فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا، وسیع ترین اور جدید ترین ایڈیشن ہے، جس نے اپنے آغاز سے قبل ہی کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

پہلی مرتبہ 3 ممالک مشترکہ طور پر میزبانی کر رہے ہیں، پہلی بار 48 ٹیمیں میدان میں اتریں گی، پہلی بار 104 میچز کھیلے جائیں گے اور پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ماڈلز اور سمارٹ ٹیکنالوجی ٹورنامنٹ کے ہر پہلو کا حصہ ہوں گی۔

میکسیکو اور جنوبی افریقا کے درمیان افتتاحی میچ کے ساتھ شروع ہونے والا یہ عالمی میلہ 19 جولائی تک جاری رہے گا، جبکہ فائنل مقابلہ امریکا کے میٹ لائف اسٹیڈیم، ایسٹ رودر فورڈ میں کھیلا جائے گا۔

فٹبال ورلڈ کپ کا آغاز 1930 میں یوراگوئے سے ہوا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے باعث ایک طویل وقفے کے باوجود یہ مقابلہ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا ایونٹ بن چکا ہے۔ قریباً ایک صدی پر محیط تاریخ میں صرف چند ممالک ہی عالمی تاج اپنے سر سجا سکے ہیں۔

برازیل 5 مرتبہ عالمی چیمپئن بن کر سب سے کامیاب ٹیم ہے۔ جرمنی اور اٹلی 4، ارجنٹائن 3، جبکہ یوراگوئے، فرانس، انگلینڈ اور اسپین ایک ایک سے زائد مرتبہ عالمی اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں ارجنٹائن نے فرانس کو شکست دے کر تیسری مرتبہ عالمی تاج اپنے سر سجایا تھا اور اب وہ دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا۔

فیفا نے اس بار ورلڈ کپ کے روایتی ڈھانچے کو تبدیل کرتے ہوئے ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کردی ہے۔ تمام ٹیموں کو 4، 4 کے 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ سے 2 بہترین ٹیمیں براہ راست اگلے مرحلے میں جائیں گی جبکہ 8 بہترین تیسرے نمبر کی ٹیمیں بھی ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں ٹورنامنٹ کے میچز کی تعداد 64 سے بڑھ کر 104 ہو گئی ہے، جبکہ دورانیہ بھی 39 دن تک پھیل گیا ہے۔ ٹاپ 32 مرحلہ 28 جون سے 3 جولائی تک، پری کوارٹر فائنلز 4 سے 7 جولائی، کوارٹر فائنلز 9 سے 11 جولائی، سیمی فائنلز 14 اور 15 جولائی جبکہ تیسری پوزیشن کا میچ 18 جولائی اور فائنل 19 جولائی کو ہوگا۔

ورلڈ کپ 2026 میں میزبان ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو سمیت دنیا کے قریباً ہر بڑے فٹبال خطے کی نمائندہ ٹیمیں شریک ہیں۔ ایشیا سے جاپان، جنوبی کوریا، ایران، سعودی عرب، قطر، آسٹریلیا، عراق، اردن اور ازبکستان میدان میں اتریں گے۔

یورپ کی نمائندگی انگلینڈ، فرانس، اسپین، جرمنی، پرتگال، نیدرلینڈز، بیلجیئم، کروشیا، سوئٹزرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، آسٹریا، ناروے، سویڈن، ترکیہ، جمہوریہ چیک اور بوسنیا و ہرزیگووینا کریں گے۔

جنوبی امریکا سے ارجنٹائن، برازیل، یوراگوئے، کولمبیا، ایکواڈور اور پیراگوئے شریک ہوں گے۔ افریقہ کی نمائندگی مراکش، سینیگال، مصر، تیونس، الجزائر، گھانا، جنوبی افریقا، آئیوری کوسٹ، جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) اور کیپ ورڈے کریں گے۔

شمالی و وسطی امریکا سے امریکا، کینیڈا، میکسیکو، پاناما، ہیٹی اور کیوراساؤ جبکہ اوشیانا سے نیوزی لینڈ ورلڈ کپ کا حصہ ہوگا۔ کیپ ورڈے، کیوراساؤ، اردن اور ازبکستان جیسی ٹیموں کی پہلی مرتبہ شرکت اس ایونٹ کو مزید منفرد بنا رہی ہے۔

گروپ اے میں میکسیکو، جنوبی افریقا، جنوبی کوریا اور جمہوریہ چیک شامل ہیں۔ گروپ بی میں کینیڈا، بوسنیا و ہرزیگووینا، قطر اور سوئٹزرلینڈ موجود ہیں۔ گروپ سی میں برازیل، مراکش، اسکاٹ لینڈ اور ہیٹی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

گروپ ڈی میں امریکا، پیراگوئے، آسٹریلیا اور ترکیہ شامل ہیں۔ گروپ ای میں جرمنی، کیوراساؤ، آئیوری کوسٹ اور ایکواڈور شریک ہیں۔ گروپ ایف میں نیدرلینڈز، جاپان، تیونس اور سویڈن موجود ہیں۔ گروپ جی میں بیلجیئم، مصر، ایران اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

گروپ ایچ میں اسپین، کیپ ورڈے، سعودی عرب اور یوراگوئے کا مقابلہ ہوگا۔ گروپ آئی میں فرانس، سینیگال، عراق اور ناروے شریک ہیں۔ گروپ جے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن، الجزائر، آسٹریا اور اردن شامل ہیں۔ گروپ کے میں پرتگال، ڈی آر کانگو، ازبکستان اور کولمبیا موجود ہیں۔ جبکہ گروپ ایل میں انگلینڈ، کروشیا، گھانا اور پاناما ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

ہر ورلڈ کپ کی طرح اس بار بھی چند ٹیمیں خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ عالمی تاج جیتنے کی خواہش رکھتی ہے۔ برازیل اپنی چھٹی عالمی ٹرافی کی تلاش میں ہے جبکہ فرانس، اسپین اور انگلینڈ بھی مضبوط امیدواروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

اسپین یورپی فٹبال میں اپنی حالیہ کامیابیوں کے باعث خطرناک ٹیم تصور کی جا رہی ہے۔ فرانس کے پاس عالمی معیار کے ستاروں کی بھرمار ہے جبکہ انگلینڈ گزشتہ کئی دہائیوں کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہو رہی ہے۔

ورلڈ کپ 2026 کا ایک بڑا جذباتی پہلو یہ بھی ہے کہ شائقین شاید آخری بار 2 عظیم ترین فٹبالرز، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کو عالمی کپ کے میدان میں ایکشن میں دیکھیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ٹورنامنٹ محض ایک عالمی مقابلہ نہیں بلکہ فٹبال کے ایک عہد کا اختتام بھی ثابت ہوگا۔

ورلڈ کپ 2026 کو تاریخ کا پہلا مکمل ’سمارٹ ورلڈ کپ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بار مصنوعی ذہانت، جدید ڈیٹا اینالیٹکس، خودکار فیصلوں اور سائبر سکیورٹی کے جدید نظاموں کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔

اڈیڈاس کی تیار کردہ سمارٹ بال میں نصب ڈیجیٹل سینسرز ہر سیکنڈ سینکڑوں مرتبہ ڈیٹا اکٹھا کریں گے، جو سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ سسٹم اور ویڈیو ٹیکنالوجی کو فوری معلومات فراہم کریں گے۔ ریفریز کے جسم پر نصب باڈی کیمرے ناظرین کو پہلی بار میچ ریفری کی آنکھ سے دیکھنے کا تجربہ دیں گے۔

تمام کھلاڑیوں کے تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلز تیار کیے گئے ہیں جبکہ براڈکاسٹنگ ادارے مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار ہائی لائٹس، مختلف کیمرہ اینگلز اور ذاتی نوعیت کے ڈیٹا فیچرز فراہم کریں گے۔ اسی طرح ہجوم کے انتظام، ٹریفک کنٹرول اور سیکیورٹی کے لیے بھی جدید ترین ڈیجیٹل سسٹمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 صرف فٹبال کا عالمی مقابلہ نہیں بلکہ کھیل، ٹیکنالوجی، ثقافت اور عالمی یکجہتی کا ایک عظیم مظاہرہ ہے۔ 48 ٹیموں، 104 میچز، 3 میزبان ممالک، جدید ترین ٹیکنالوجی اور دنیا کے بہترین فٹبالرز کی موجودگی اس ایونٹ کو تاریخ کے سب سے بڑے ورلڈ کپ میں تبدیل کر رہی ہے۔

آنے والے ہفتوں میں اربوں نگاہیں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو پر مرکوز ہوں گی، جہاں عالمی فٹبال کی نئی تاریخ لکھی جائے گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp