وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کی مکمل اصلاحات اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک روڈ میپ کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: ترسیلات زر کا نیا ریکارڈ : بیرون ملک پاکستانیوں نے مئی میں 4 ارب 30 کروڑ ڈالر بھیجے، وزیراعظم کا اظہار اطمینان
یہ وزیراعظم کی زیر صدارت ریلوے اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی جس میں پاکستان ریلوے کی کارکردگی، مستقبل کی حکمت عملی اور مجوزہ اصلاحاتی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مال برداری کی خدمات کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جائے، نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے اور ریلوے نیٹ ورک کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ اسے محفوظ، سستا اور مؤثر سفری نظام بنایا جا سکے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ریلوے میں ملک کے سب سے قابل اعتماد اور کم لاگت ٹرانسپورٹ نظام بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے جو نہ صرف مسافروں بلکہ مال برداری کے شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے نظام کو مضبوط بنا کر ملکی معیشت، تجارت اور علاقائی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ مال برداری کی خدمات ریلوے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے فروغ کو اصلاحاتی منصوبے کا بنیادی محور بنایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیے: وزیرِ ریلوے حنیف عباسی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اصلاحاتی روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے عالمی شہرت یافتہ ماہرین اور مشاورتی اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نجی شعبے کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک مؤثر ریلوے نظام سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی، نقل و حمل کے اخراجات میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ جدید ریلوے نیٹ ورک کاربن اخراج میں کمی، ماحول دوست سفری سہولیات کے فروغ اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ریلوے کی ملکیتی زمینوں پر نجی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن کو ریلوے کے بنیادی ڈھانچے، سہولیات اور جدید کاری پر خرچ کیا جائے تاکہ ادارے کی مالی اور عملی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ریلوے بحران سنگین، 3 کروڑ سے زائد مسافر سفر سے محروم
اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو مجوزہ اصلاحاتی روڈ میپ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت پاکستان ریلوے کا مسافر اور مال برداری کے شعبوں میں مارکیٹ شیئر بڑھانے، خدمات کے معیار کو بہتر بنانے، نیٹ ورک کی استعداد میں اضافہ کرنے اور ادارے کی طویل المدتی مالی پائیداری کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
اصلاحاتی منصوبے میں گورننس کی بہتری، ڈیجیٹل نظام کا فروغ، ریلوے لائنوں کی توسیع، علاقائی روابط میں اضافہ، نجی شعبے کی شمولیت اور مالی استحکام کے اقدامات شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق منصوبے کے تحت جدید کوچز متعارف کرانے، ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے، اہم ریلوے راہداریوں ایم ایل ون، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری کی اپ گریڈیشن اور ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے رائٹ سائزنگ اقدامات بھی شامل ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ اور محمد حنیف عباسی، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور مختلف متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ کا آغاز: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دنیا بھر کے شائقین کو مبارکباد کا پیغام
ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ اصلاحات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو پاکستان ریلوے نہ صرف ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکے گی بلکہ مسافروں اور کاروباری شعبے کو بھی جدید، محفوظ اور کم لاگت سفری سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔













