اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران پاکستان کے سرکاری بیرونی قرضوں کا حجم بڑھ کر 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو مارچ 2026 کے اختتام تک 364 ملین ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اقتصادی سروے : چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں قرضوں میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر کم رہی کیونکہ گزشتہ سال بیرونی قرضوں میں 883 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی بیرونی قرض میں سرکاری قرضوں کا حصہ سب سے زیادہ ہے جو 82.26 ارب ڈالر پر مشتمل ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے واجب الادا قرضوں کا حجم 9.89 ارب ڈالر ہے، جو مجموعی بیرونی قرض کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے۔
آئی ایم ایف قرضوں میں وفاقی حکومت کا حصہ 3.62 ارب ڈالر جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا حصہ 6.27 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق مرکزی حکومت کے بیرونی قرضوں کا بڑا حصہ طویل المدتی نوعیت کا ہے۔ 68.41 ارب ڈالر ایسے قرضوں پر مشتمل ہیں جن کی مدت ایک سال سے زیادہ ہے جبکہ 13.85 ارب ڈالر مختصر المدتی قرضے ہیں۔
مزید پڑھیے: اقتصادی سروے کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس مثبت زون میں بند
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی بیرونی قرضہ حکمتِ عملی طویل المدتی مالی وسائل کے حصول کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ اس نوعیت کے قرضوں میں ادائیگی کا دباؤ نسبتاً کم ہوتا ہے۔
سروے کے مطابق عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کیے گئے کثیرالجہتی قرضے 42.48 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مجموعی بیرونی قرضوں کا تقریباً 46 فیصد ہیں۔ یہ قرضے کم شرح سود اور طویل ادائیگی کی مدت کے باعث پاکستان کے لیے نسبتاً آسان شرائط کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
پیرس کلب کے قرضوں کا حجم 5.49 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو مجموعی بیرونی قرض کا تقریباً 6 فیصد بنتا ہے جبکہ غیر پیرس کلب ممالک سے حاصل کیے گئے دوطرفہ قرضے 19.02 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو کل قرضوں کا 21 فیصد ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں تیزی، آئی ٹی برآمدات اور انٹرنیٹ رسائی میں نمایاں اضافہ
رپورٹ کے مطابق یورو بانڈز اور بین الاقوامی صکوک کی مالیت 6.3 ارب ڈالر رہی جبکہ غیر ملکی کمرشل بینکوں سے حاصل کیے گئے قرضے بھی 6.32 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو مجموعی بیرونی قرض کا تقریباً 7 فیصد بنتے ہیں۔
اسی طرح نیا پاکستان سرٹیفکیٹس، پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری مجموعی بیرونی قرض کا تقریباً ڈیڑھ فیصد حصہ ہیں۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ حکومت مہنگے اور مختصر المدتی قرضوں پر انحصار کم کرنے اور طویل المدتی مالی وسائل کے حصول کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس سے قرضوں کی واپسی کے خطرات اور قرضوں کی خدمت کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد مل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گندم اور چاول کی پیداوار میں اضافہ، زرعی شعبے میں ہدف کا حصول ممکن نہ ہو سکا، اقتصادی سروے
رپورٹ کے مطابق محصولات میں اضافے، اخراجات میں نظم و ضبط، مہنگائی میں کمی اور معاشی اصلاحات کی بدولت آئندہ برسوں میں پاکستان کے قرضوں کا بوجھ بتدریج کم ہونے کی توقع ہے جس سے مالیاتی استحکام اور معاشی مضبوطی کو فروغ ملے گا۔













