انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) مینز او ون ڈے انٹرنیشل کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے انعقاد کے لیے تیاریاں تیز کردی گئی ہیں اور اس حوالے سے ٹورنامنٹ کی ممکنہ تاریخیں بھی سامنے آگئی ہیں، سال 2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ اگلے سال 4 اکتوبر سے 21 نومبر کے درمیان کھیلا جائے گا۔
اس شیڈول پر مئی میں احمد آباد میں ہونے والے آئی سی سی بورڈ اجلاس کے دوران اصولی اتفاق کیا گیا تھا، جبکہ اس کی حتمی منظوری جولائی میں ایڈنبرا میں شیڈول آئی سی سی کے سالانہ جنرل میٹنگ میں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ’جھوٹی خبریں نہ پھیلائیں‘، نوجوت سنگھ سدھو نے ورلڈ کپ 2027 سے متعلق وائرل بیان کی تردید کر دی
سال 2003 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب ون ڈے کرکٹ کا سب سے بڑا میلہ افریقی براعظم میں سجنے جارہا ہے، جہاں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا مشترکہ طور پر اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کریں گے۔
ٹورنامنٹ کے دوران مجموعی طور پر 54 میچز کھیلے جائیں گے، جن میں سے 41 میچز جنوبی افریقہ کے 8 مختلف اسٹیڈیمز میں ہوں گے۔
زمبابوے میں 8 سے 10 میچز کھیلے جائیں گے جس کے لیے تین مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں ہرارے اسپورٹس کلب اور بولاوایو کے ساتھ ساتھ وکٹوریہ فالز کا نیا زیر تعمیر اسٹیڈیم بھی شامل ہے، نمیبیا کے حصے میں صرف 3 میچز آئیں گے۔
اس بار ورلڈ کپ کا فارمیٹ بھی تبدیل کیا جارہا ہے اور گزشتہ 2 ایڈیشنز کے برعکس اس بار 10 کے بجائے 14 ٹیمیں ٹرافی کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
تمام ٹیموں کو 7، 7 کے 2 گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور دونوں گروپس سے ٹاپ تھری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں سپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: تنازعات سے بھرپور ایشیا کپ 2025 اختتام پذیر، اگلا ایونٹ اب کب اور کہاں ہوگا؟
میزبان ممالک میں سے جنوبی افریقہ اور زمبابوے نے آئی سی سی کے فل ممبرز ہونے کی حیثیت سے ٹورنامنٹ کے لیے براہ راست کوالیفائی کرلیا ہے، تاہم نمیبیا کو عالمی ایونٹ تک رسائی کے لیے کوالیفکیشن راؤنڈ کا مرحلہ عبور کرنا ہوگا۔
یہ ورلڈ کپ سال 2027 سے 2031 کے فیوچر ٹورز پروگرام کا پہلا بڑا آئی سی سی ایونٹ ہوگا، جس کے تحت ممالک کے درمیان باہمی سیریز کا شیڈول رواں سال ہانگ کانگ میں طے کیا جائے گا۔
آئی سی سی کے لیے اس نئے شیڈول کی تشکیل میں سب سے بڑا چیلنج ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی ساخت اور اس میں توسیع کا معاملہ بنا ہوا ہے۔
آئی سی سی جولائی میں ہونے والے اجلاس میں یہ حتمی فیصلہ کرے گا کہ آیا زمبابوے، آئرلینڈ اور افغانستان سمیت تمام 12 فل ممبرز کو ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ بنایا جائے یا نہیں، اور کیا یکطرفہ ٹیسٹ میچز بھی اس چیمپیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
ان فیصلوں کے بعد ہی مستقبل کے کرکٹ کیلنڈر کو حتمی شکل دی جاسکے گی۔













