وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ ’قومی اقتصادی سروے 26-2025‘ کے مطابق پاکستان کا زرعی شعبہ مقررہ ہدف کے حصول میں تو کامیاب نہ ہو سکا، تاہم اہم فصلوں کی پیداوار میں بہتری نے زرعی معیشت کو سہارا دیا ہے۔
شرحِ نمو اور پیداواری اہداف
اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ حکومت نے اس کے لیے 4.5 فیصد کا ہدف مقرر کیا تھا۔ موسمیاتی تبدیلیوں، غیر معمولی بارشوں اور زرعی علاقوں میں درپیش تکنیکی مسائل ہدف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بنے۔
فصلوں کی پیداوار کا تفصیلی جائزہ
اقتصادی سروے کے مطابق کئی اہم اجناس کی پیداوار میں مثبت رجحان دیکھا گیا، جس کے مطابق گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے کے بعد 2 کروڑ 96 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ چاول کی پیداوار 2.8 فیصد اضافے کے بعد 99 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح گنے کی پیداوار 6.2 فیصد اضافے کے بعد 8 کروڑ 94 لاکھ میٹرک ٹن رہی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی انٹرنیشنل کیپیٹل مارکیٹ میں کامیاب واپسی، ترسیلاتِ زر 34 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، اقتصادی سروے
اقتصادی سروے کے مطابق دیگر زرعی پیداوار میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی، جس میں چنے (50.4 فیصد)، آلو (27.6 فیصد)، دالیں (31.4 فیصد) اور آم (11.6 فیصد) شامل ہیں۔
اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں بالترتیب 12.6 فیصد اور 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس، مکئی کی پیداوار 2.7 فیصد کمی کے ساتھ 88 لاکھ میٹرک ٹن، جبکہ کپاس کی پیداوار 70 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہی، جو ملکی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
لائیو اسٹاک، معیشت کا اہم ستون
اقتصادی سروے میں ڈیری اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو زرعی معیشت کا اہم ترین ستون قرار دیا گیا ہے۔ لائیو اسٹاک، زرعی معیشت کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتا ہے اور اس کی شرحِ نمو 3.75 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
سروے کے مطابق معاشی استحکام اور غذائی تحفظ کے لیے جدید بیجوں کا استعمال، آبپاشی کے بہتر نظام، زرعی تحقیق اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے موثر حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:چیلنجز کے ساتھ صحت کے شعبے میں بہتری، اوسط عمر 67.8 سال تک پہنچ گئی، اقتصادی سروے
سروے کے مطابق زرعی شعبے کی مضبوطی صرف غذائی خود کفالت ہی نہیں، بلکہ برآمدات اور دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔













