وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ ‘قومی اقتصادی سروے 26-2025’ کے مطابق بیرونی شعبے کی بہتر کارکردگی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر نے رواں مالی سال ملکی معیشت کو اہم سہارا فراہم کیا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری معاشی استحکام کے کلیدی اسباب قرار پائے ہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ اور ترسیلاتِ زر میں بہتری
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق جولائی سے مارچ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا، جو کہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی اور زرِ مبادلہ کی بہتر صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چیلنجز کے ساتھ صحت کے شعبے میں بہتری، اوسط عمر 67.8 سال تک پہنچ گئی، اقتصادی سروے
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 8.5 فیصد اضافے کے ساتھ 34 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جبکہ 9 ماہ کی کارکردگی میں صرف جولائی تا مارچ کے دوران ترسیلاتِ زر 30.3 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
تجارتی توازن مگر چیلنجز بدستور موجود
سروے رپورٹ میں تجارتی خسارے میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ پہلے 10 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 20.8 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس عرصے میں درآمدات کا حجم 57 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ برآمدات 6.25 فیصد کمی کے بعد 25.21 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی
سروے کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری دیکھی گئی ہے، جو بڑھ کر 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ سال کے دوران بعض ادوار میں یہ سطح 21.3 ارب ڈالر تک بھی ریکارڈ کی گئی۔ ان ذخائر میں اضافہ روپے کے استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کو تقویت دیتا ہے۔
مزید پڑھیں:اقتصادی سروے کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس مثبت زون میں بند
اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا سال رہا۔ حکومت نے 4 سال کے طویل وقفے کے بعد نہ صرف انٹرنیشنل کیپیٹل مارکیٹ میں رسائی حاصل کی، بلکہ یورو بانڈ کے اجرا اور پہلی مرتبہ چینی مارکیٹ میں ‘پانڈا بانڈ’ متعارف کروا کر اپنی ساکھ کو بہتر بنایا۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
اقتصادی سروے کے مطابق ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری حوصلہ افزا ہے، تاہم یہ ماننا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدی انحصار کو کم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔














