برطانوی دارالحکومت لندن میں آئی فون چوری اور چھینے جانے کے واقعات میں ایک سال کے دوران 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس کامیابی میں ایپل کے ساتھ قائم ڈیٹا شیئرنگ شراکت داری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل صارفین کے لیے خوشخبری، اہم سافٹ ویئراَپ ڈیٹ لانچ، آپ کا فون بھی ہوگا پہلے سے کہیں زیادہ اسمارٹ
میٹروپولیٹن پولیس اور ایپل گزشتہ کچھ عرصے سے چوری شدہ فونز سے متعلق معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ چوری کے بعد یہ آلات کہاں جاتے ہیں اور آیا انہیں دوبارہ موبائل نیٹ ورکس پر فعال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
پولیس حکام کے مطابق اس تعاون سے ایپل کو اپنے حفاظتی نظام، خصوصاً ایکٹیویشن لاک اور اسٹولن ڈیوائس پروٹیکشن کی مؤثریت جانچنے میں مدد ملی جبکہ چوروں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے نئے طریقوں کی نشاندہی بھی ممکن ہوئی۔
تحقیقات کے دوران ایک اہم خامی سامنے آئی جس کے تحت غیر قانونی سافٹ ویئر کے ذریعے چوری شدہ آئی فونز کو مکمل طور پر ری سیٹ کر کے دوبارہ فروخت کے قابل بنایا جا رہا تھا۔ ایپل نے میٹ پولیس سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے اس سافٹ ویئر کی نشاندہی کی اور اسے مؤثر طور پر بلاک کر دیا۔
مزید پڑھیے: ایپل کے اسمارٹ چشموں کی رونمائی مؤخر، 2027 کے آخر میں متوقع
میٹروپولیٹن پولیس کے کمشنر سر مارک راؤلی کے مطابق ایپل کا خیال ہے کہ اس تکنیکی مسئلے پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے جبکہ حالیہ ہفتوں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ لندن میں چوری ہونے والے زیادہ تر فونز کو دوبارہ فیکٹری ری سیٹ کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر چوری شدہ فونز دوبارہ فعال نہ ہو سکیں تو ان کی مارکیٹ ویلیو تقریباً ختم ہو جاتی ہے، جس سے چوری کی ترغیب بھی کم ہو جاتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 سے مئی 2026 کے دوران موبائل فونز سے متعلق چوری کی وارداتوں میں 14 ہزار کی کمی آئی، جو سالانہ بنیاد پر 18 فیصد کمی بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ستمبر 2026 میں پیش کیے جانے کا امکان، قیمت کتنی ہوگی؟
لندن کے مرکزی علاقے ویسٹ منسٹر میں اس کے اثرات مزید نمایاں رہے، جہاں ذاتی اشیا کی چوری کے 69 سے 72 فیصد واقعات موبائل فونز سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس علاقے میں فون چوری کی شرح میں 45.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
میٹروپولیٹن پولیس نے چوروں کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کی ہیں۔ پولیس اب ڈرونز کے ذریعے برقی سائیکلوں پر وارداتیں کرنے والے گروہوں کی نگرانی کر رہی ہے، جبکہ موٹر سائیکلوں پر فرار ہونے والے ملزمان کے خلاف بھی سخت حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایپل کا انقلابی قدم، معذور افراد کے لیے اے آئی سے لیس حیرت انگیز فیچرز متعارف کروا دیا
حکام کے مطابق ایپل اور پولیس کے درمیان تعاون نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر اسمارٹ فون چوری کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔














