نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل اسٹارمر حکومت کو بڑا دھچکا، برطانوی وزیرِ دفاع مستعفی

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کے ساتھ دفاعی اخراجات کے معاملے پر شدید اختلافات کے بعد برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

ان کا استعفیٰ نیٹو کے اہم سربراہی اجلاس سے چند ہفتے قبل برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شرکت کریں گے۔

جان ہیلی کے استعفے کی بنیادی وجہ ڈیفینس انویسٹمنٹ پلان میں تاخیر بتائی جا رہی ہے،جو فوجی سرمایہ کاری اور دفاعی تیاریوں کے لیے حکومت کا طویل عرصے سے وضع کردہ روڈ میپ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: مقامی انتخابات میں حکمران جماعت کو بھاری نقصان، وزیراعظم اسٹارمر کا مستعفی ہونے سے انکار

دوسری جانب نیٹو کے اتحادی ممالک پر بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ایڈ آرنلڈ نے کہا کہ جان ہیلی کا استعفیٰ حکومت اور وزارتِ دفاع دونوں کے لیے ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔

ان کے مطابق حکومت کو اب نئے وزیرِ دفاع کی تقرری اور دفاعی سرمایہ کاری منصوبے کی اشاعت جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق جان ہیلی گزشتہ چند ہفتوں سے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اور وزیرِ خزانہ ریچل ریوز کے ساتھ دفاعی سرمایہ کاری منصوبے کے حجم اور اس کے نفاذ کے شیڈول پر مذاکرات کر رہے تھے۔

تاہم اسٹارمر نے 2035 تک دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے 3.5 فیصد تک لے جانے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے انکار کر دیا، حالانکہ انہوں نے گزشتہ سال نیٹو اجلاس میں صدر ٹرمپ سے ایسا وعدہ کیا تھا۔

اسی طرح وہ دفاعی اخراجات کو 3 فیصد تک پہنچانے کے لیے بھی کوئی حتمی تاریخ دینے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں:  برطانیہ میں رائل نیوی کا ہیلی کاپٹر تباہ، عملے کے 3 ارکان ہلاک

اس کے بجائے اسٹارمر نے جان ہیلی کو 2030 تک دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 2.68 فیصد تک بڑھانے کی پیشکش کی، جو آئندہ سال کے متوقع 2.6 فیصد کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔

اپنے استعفیٰ میں جان ہیلی نے لکھا کہ حکومت اور وزارتِ خزانہ ملک کے دفاع کے لیے درکار وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مالی پابندیاں ملک کو کم محفوظ بنا دیں گی۔

دفاعی ماہر پروفیسر کیون رولینڈز نے کہا کہ اگر دفاعی سرمایہ کاری منصوبے میں تاخیر پہلے ہی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی تھی تو جان ہیلی کے استعفے نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کے شہر برسٹل میں دھماکہ، 2 افراد ہلاک

ان کے مطابق اس فیصلے سے برطانوی افواج، وزارتِ دفاع اور دفاعی صنعت کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

اس استعفے کے اثرات امریکا تک بھی محسوس کیے جانے کا امکان ہے، جہاں واشنگٹن یورپی اتحادیوں پر دفاعی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔

صدر ٹرمپ متعدد بار نیٹو کے بعض رکن ممالک کو ’فری رائیڈرز‘ قرار دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانیہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ نیٹو کا آئندہ اجلاس تنظیم کی تاریخ کے اہم ترین اجلاسوں میں سے ایک ہوگا کیونکہ کئی اہم معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ادھر نیٹو میں امریکی سفیر میتھیو وائٹیکر نے اس ہفتے کہا کہ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ اتحادی ممالک کو دفاع پر جی ڈی پی کا 5 فیصد خرچ کرنے کے اپنے عزم کو پورا کرنا ہوگا۔

اگرچہ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اگلی پارلیمنٹ کے دوران دفاعی اخراجات کو 3 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔

تاہم جان ہیلی کے استعفے نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حکمتِ عملی کے تحت برطانیہ اپنے اہم اتحادیوں سے پیچھے رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہوں، بلاول بھٹو

وفاقی حکومت کا حجم کم کرنے کا عمل تیز، غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کے خاتمے پر زور

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

پاکستان، امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، اسحاق ڈار

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہوں، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی