عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی معاشی ترقی کورونا وبا کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ سکتی ہے۔ ادارے نے توانائی کی بڑھتی قیمتوں، مہنگائی اور قرض لینے کی بلند لاگت کے باعث 2026 کے لیے عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی کم کر دی ہے۔
عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی شرح نمو کا اندازہ 2.9 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے توانائی کی فراہمی اور عالمی سپلائی چینز پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
The World Bank cut its outlook for global growth this year and said two-thirds of economies have seen prospects deteriorate as the Middle East war disrupts commodity flows and raises the cost of imports. https://t.co/YN0KaKRJX8
— Bloomberg (@business) June 11, 2026
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں مزید بڑھیں تو عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، جو تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کا اہم راستہ ہے، نے توانائی کے شعبے میں شدید دباؤ پیدا کر دیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق رواں سال خام تیل کی عالمی قیمت اوسطاً 94 ڈالر فی بیرل تک رہ سکتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 36 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں عالمی مہنگائی 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ توانائی کے بحران میں شدت آنے پر معاشی ترقی کی شرح مزید گر کر 1.3 فیصد تک آ سکتی ہے۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو گزشتہ برسوں میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم موجودہ بحران میں سب سے بڑا امتحان عوام کا تحفظ، معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع برقرار رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
عالمی بینک نے مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے 60 ارب ڈالر تک امداد مختص کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں یہ رقم 100 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔














