ایک حالیہ سائنسی تحقیق اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ بستر شیئر کرنے والے افراد میں نیند کا معیار دیگر لوگوں کے مقابلے میں واضح طور پر خراب پایا گیا ہے اور ایسے لوگ بے خوابی (انسومنیا) کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
جرنل ‘سائنٹیفک رپورٹس’ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1,591 امریکی بالغوں کا جائزہ لیا گیا، جس سے یہ معلوم ہوا کہ تقریباً 47.6 فیصد مالکان اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ ایک ہی بستر پر سوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئے سال کے صحت مند ’ریزولیوشنز‘ بہتر نیند کی کنجی بن سکتے ہیں، تحقیق
حیرت انگیز طور پر، عمر اور آمدنی جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی یہ بات سامنے آئی کہ پالتو جانوروں کے ساتھ سونے سے نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس تحقیق کا سب سے دلچسپ اور حیران کن پہلو یہ تھا کہ نیند پر پڑنے والے یہ منفی اثرات صرف کتوں کے مالکان میں دیکھے گئے، جبکہ بلیوں کے مالکان کی نیند اس سے متاثر نہیں ہوئی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ کتوں کا زیادہ وزن، ان کی مسلسل حرکات و سکنات اور مالک کے سونے کے انداز کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش نیند میں خلل کا باعث بنتی ہے۔

اس کے برعکس، بلیاں عام طور پر کم وزنی ہوتی ہیں اور انسانی حیاتیاتی گھڑی (بائیولوجیکل کلاک) کی زیادہ پروا نہیں کرتیں، حالانکہ ایک پرانی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ بلیوں کے مالکان سوتے وقت ٹانگوں میں جھٹکے لگنے کی شکایت زیادہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری کمبل میں اچھی نیند کیوں آتی ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق، پالتو جانوروں کے ساتھ سونے کے جہاں کچھ نقصانات ہیں، وہاں اس کے کچھ نفسیاتی فوائد بھی ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے مطالعے ظاہر کرتے ہیں کہ پالتو جانور کو پیار کرنے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، تناؤ پیدا کرنے والے ہارمون ‘کورٹیسول’ کی سطح گرتی ہے اور سکون بخش ہارمون ‘آکسی ٹوسن’ خارج ہوتا ہے، جو خاص طور پر تنہائی یا ذہنی دباؤ کے شکار مریضوں کے لیے مفید ہے۔
تاہم امریکی اکیڈمی برائے الرجی اور دمہ کے مطابق، 30 فیصد الرجی کے مریضوں میں پالتو جانوروں کے بالوں اور خشکی کی وجہ سے نیند ٹوٹنے کا مسئلہ عام ہے، جبکہ سی ڈی سی نے پسوؤں کی وجہ سے ہونے والے ‘کیٹ اسکریچ فیور’ جیسے خطرات سے بھی خبردار کیا ہے۔














