کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسوب مبینہ آڈیو لیک سامنے آنے کے بعد تنظیم کے بارے میں کیے جانے والے ’پرامن سرگرمیوں‘ کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ آڈیو میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مبینہ رہنما ساجد اعظم اور حمید کشمیری کے درمیان گفتگو سامنے آئی ہے، جس میں راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی، جلوسوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ داخلے کی حکمت عملی پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
🚨 BREAKING: An explosive leaked audio conversation involving Joint Awami Action Committee (JAAC) leaders Sajid Azam and Hameed Kashmiri has surfaced online. pic.twitter.com/LLTDUiMcHw
— Mohsin Hassan Khan 🆇 (@mohsinhassan07) June 13, 2026
آڈیو کے بعض حصوں میں یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد موجود ہیں اور مبینہ طور پر مسلح جتھوں کی تیاری کا ذکر کیا گیا ہے۔ گفتگو میں راولاکوٹ پہنچ کر مختلف مطالبات منوانے اور اپنے ساتھیوں کی رہائی سے متعلق بات بھی سنی جا سکتی ہے۔
مزید مبینہ گفتگو میں سخت اور اشتعال انگیز انداز اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مزاحمت اور ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ بعض جملوں میں داخلی اختلافات اور قیادت پر ناراضی کا اظہار بھی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی مبینہ آڈیو لیک سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ تنظیم کے پرامن ہونے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی مبالغہ آمیز تعداد کے دعوے اور جارحانہ گفتگو تنظیم کے بیانیے پر سوالیہ نشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قیادت کی خفیہ آڈیو لیک، راولاکوٹ میں مسلح داخلے اور کشیدگی بڑھانے سے متعلق بات چیت منظر عام
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی گفتگو خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے، جس کا فائدہ بیرونی بیانیوں کو پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسوب بعض افراد کی آڈیو لیک منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں راولاکوٹ میں داخلے اور ممکنہ سیاسی سرگرمیوں سے متعلق گفتگو سامنے آئی تھی۔ اس نئی مبینہ لیک نے اس معاملے کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
ادھر آڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں جبکہ سیکیورٹی اور سیاسی حلقوں میں بھی صورتحال کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔














