وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کے لیے ’چارٹر آف اکانومی‘ اور ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کے بجٹ پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قومی مفاد اور پاکستان کی ترقی کو سیاسی اختلافات پر فوقیت دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو ملاقات کی دعوت دیدی
انہوں نے کہا کہ ’میں ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ہمیں چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی جانب بڑھنا چاہیے۔’انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور قومی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چاروں صوبوں کی یکساں ترقی کو یقینی بنانا ان کی آئینی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے صوبائی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ صوبے اپنے وسائل پر حق رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی اور باہمی تعاون ہی پاکستان کو معاشی اور سیاسی استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ بیان وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔













