ماہرینِ نیند کے مطابق ویک اینڈ پر زیادہ دیر تک سونا نیند کی کمی پوری کرنے کے بجائے جسمانی گھڑی کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیر کے روز ذہنی دھند، سستی اور توجہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:زیادہ اور کم نیند دونوں خطرناک، ماہرین نے بہترین دورانیہ بتادیا
اکثر افراد مصروف ہفتے کے بعد ہفتہ اور اتوار کو دیر تک سو کر اپنی نیند کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ ویک اینڈ کی اضافی نیند جسم کو تازگی دے گی، لیکن ماہرین کے مطابق یہ عادت بعض اوقات الٹا اثر ڈالتی ہے اور پیر کے دن دماغی تھکن کا سبب بن جاتی ہے۔
ماہرینِ نیند کے مطابق انسانی دماغ نیند کو کسی بینک اکاؤنٹ کی طرح نہیں سمجھتا کہ ہفتے بھر کی کمی ہفتے کے آخر میں چند گھنٹے زیادہ سو کر پوری کر لی جائے۔ نیند کے معمول میں اچانک بڑی تبدیلی جسم کی اندرونی گھڑی یعنی سرکیڈین ردھم کو متاثر کر دیتی ہے۔

اس کیفیت کو ’سوشل جیٹ لیگ‘ کہا جاتا ہے، جس میں انسان کی قدرتی جسمانی گھڑی اور روزمرہ کے معمولات میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص پورے ہفتے صبح 7 بجے اٹھتا ہے اور اتوار کو 11 بجے تک سوتا رہتا ہے تو رات کو معمول کے وقت سونا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے پیر کی صبح نیند پوری نہ ہونے کا احساس برقرار رہتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق صرف نیند کے مجموعی گھنٹے اہم نہیں بلکہ نیند کا باقاعدہ معمول بھی ذہنی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بے ترتیب سونے جاگنے کی عادت توجہ، یادداشت اور معلومات سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویک اینڈ پر نیند کا دورانیہ معمول سے ایک گھنٹے سے زیادہ نہ بڑھایا جائے۔ اگر ہفتے کے دوران نیند کم ہوئی ہو تو صبح دیر تک سونے کے بجائے رات کو جلدی سونا زیادہ بہتر حکمت عملی ہے۔
قدرتی روشنی میں صبح کا وقت گزارنا بھی جسمانی گھڑی کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقل نیند کا شیڈول اختیار کرنے والے افراد پیر کی صبح زیادہ چاق و چوبند اور ذہنی طور پر بہتر محسوس کرتے ہیں۔














