دنیا بھر کے رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سفارتی میدان میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
عالمی رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی بھی تعریف کی۔
امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو اعلان کیا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے، ایران پر امریکی محاصرے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا، وزیراعظم شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کردی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔
ان کے بیان سے کچھ دیر قبل ثالثی کی کوششوں میں پیش پیش وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران امن معاہدہ، تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد کم ترین سطح پر آ گئیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تنازع کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے واشنگٹن اور تہران کو فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مزید مذاکرات کے فریم ورک پر اتفاق کرنے پر مبارکباد دی۔
I warmly congratulate the US & Iran for having reached a peace deal that provides for an immediate & permanent ceasefire, the reopening of the Strait of Hormuz, as well as a framework for further negotiations. This represents a critical step towards the peaceful settlement of the…
— António Guterres (@antonioguterres) June 14, 2026
گوتریس نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے مذاکرات کی کامیابی میں تعمیری کردار ادا کیا۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اس معاہدے کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے ثالثی کیغیرمعمولی کوششوں کو سراہتے ہوئے امریکا اور ایران کی قیادت کی تعریف کی، جبکہ قطر اور سعودی عرب کی سفارتی معاونت کو بھی اہم قرار دیا۔
ABD ve İran arasında varılan mutabakatı, bölgemizde sulh-u sükûnun hâkim kılınması adına önemli bir gelişme olarak görüyor, memnuniyetle karşılıyorum.
Tüm dünyanın uzun süredir ihtiyaç duyduğu bu haberin bölgemizde kalıcı huzur ve güven ortamının tesisine vesile olmasını…
— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) June 14, 2026
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان کی حکومت امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک کی کوششوں کو بھی سراہا۔
— Anthony Albanese (@AlboMP) June 14, 2026
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے معاہدے کو جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے صدر ٹرمپ اور پاکستان، قطر سمیت دیگر ثالث ممالک کو اس سفارتی کامیابی پر مبارکباد دی۔
My statement on today's agreement between the United States and Iran. pic.twitter.com/taQZufv7ij
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) June 14, 2026
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر فوری اور مکمل عملدرآمد پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو فوری اور غیرمشروط طور پر کھولنے کی راہ ہموار کرے گا۔
قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے پاکستان اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں نے معاہدے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔
We welcome the agreement reached on the Memorandum of Understanding between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. We extend our thanks to our brothers in the Islamic Republic of Pakistan, as well as to all regional and international parties that…
— محمد بن عبدالرحمن (@MBA_AlThani_) June 14, 2026
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے اس معاہدے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی معیشت اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ جہازرانی یقینی بنائی جائے گی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر بھی جلد حتمی معاہدہ ہو جائے گا۔
انہوں نے ثالثی میں شامل ممالک کی کوششوں کو بھی سراہا۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے اس معاہدے کو کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔
New Zealand welcomes the US – Iran Memorandum of Understanding aimed at ending the conflict. We want to see swift implementation including the reopening of the Strait of Hormuz. We urge all parties to continue the positive momentum. While the situation remains fragile, this is a…
— Winston Peters (@NewZealandMFA) June 14, 2026
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل ای-4 ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات کرتا ہے تو وہ اس کے بدلے میں ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، اور ہم اس مقصد کے لیے امریکا، ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔














