امریکا ایران امن معاہدہ، تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد کم ترین سطح پر آ گئیں

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے متعلق ابتدائی معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد کم ترین سطح پر آگئیں۔

پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 4.1 فیصد کمی کے بعد 83.75 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 4.72 فیصد کمی کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ دونوں معاہدے جمعہ کے روز بھی 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کر چکے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پاگیا، پاکستان کے لیے یہ کتنی بڑی کامیابی ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مطابق امریکا اور ایران جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ’ٹول فری‘ کھول دیا جائے گا جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو 30 روز کے اندر دوبارہ بحال کیا جائے گا۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی خطرات کا اضافی عنصر تیزی سے ختم ہو رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار تیل کی سپلائی بحال ہونے کی توقعات کو قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز گزشتہ 3 ماہ سے زیادہ عرصے تک بند رہنے کے باعث عالمی منڈی روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی سپلائی سے محروم رہی۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے قریباً 5ویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا، وزیراعظم شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کردی

دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل ای 4 ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیشرفت کی صورت میں تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ جنگ بندی اور مذاکرات سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا ہے، تاہم آئندہ 60 روز کے دوران جوہری مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں میں مزید بڑی کمی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp