اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیلی حملے پر تنقید کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مزید کوئی حملہ نہیں ہونا چاہیے، ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ اب بھی ممکن حد تک قریب ہے۔
Israeli Defense Minister Israel Katz said Monday that Israel will maintain an indefinite military presence in security zones in Lebanon, rejecting any future withdrawal despite the newly announced U.S.-Iran agreement aimed at ending months of regional conflict.
Read more here:… pic.twitter.com/iQpeF0kjZK
— This Is Beirut (@ThisIsBeirut_) June 15, 2026
ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جنوبی بیروت کے مضافات پر اسرائیلی حملے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت یا سیاسی عزم نہیں رکھتا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو تھے۔
مزید پڑھیں: ایران کا اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان، لبنان کے خلاف کارروائی پر دوبارہ جنگ چھیڑنے کی دھمکی
ایران کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس کے سخت جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور وہ دشمن کے دل پر وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بیروت پر حملہ ایسے دن نہیں ہونا چاہیے تھا جب ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب تر ہے۔













