ٹیسلا کمپنی کی جانب سے اپنے ‘فل سیلف ڈرائیونگ’ سسٹم کے بارے میں یورپی ریگولیٹرز کو فراہم کردہ سیکیورٹی کے اعداد و شمار پر ٹریفک کے آزاد محققین نے شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے انہیں گمراہ کن مارکیٹنگ قرار دے دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹیسلا نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکا میں تمام گاڑیوں، ٹرکوں اور موٹر سائیکلوں کو ایف ایس ڈی سسٹم والی ٹیسلا کاروں سے بدل دیا جائے تو یہ ٹیکنالوجی 32,000 ہلاکتوں اور 1.9 ملین زخمیوں کو روک سکتی ہے، تاہم آزاد ماہرین نے اس دعوے کو حقیقت سے دور اور مفروضوں پر مبنی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسلا کا بیٹری پروڈکشن بڑھانے کا فیصلہ، 25 کروڑ ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان
غیر ملکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹیسلا نے اپنے خود ساختہ حفاظتی اعداد و شمار کے ذریعے ہالینڈ کی روڈ ریگولیشن باڈی سے اس سسٹم کی منظوری حاصل کرلی ہے اور اب اسی بنیاد پر پورے یورپی یونین میں منظوری حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیسلا نے اپنے سیکیورٹی موازنے کے لیے امریکا کی اوسط گاڑیوں کا انتخاب کیا جو کہ کافی پرانے ماڈل کی ہیں اور ان میں جدید سیکیورٹی ٹیکنالوجی موجود ہی نہیں ہے۔ مزید برآں، ٹیسلا اپنے صرف ان حادثات کا ڈیٹا لیتی ہے جن میں ایئربیگ کھلے ہوں، اور اس کا موازنہ امریکی قومی معیار کے معمولی حادثات سے کر کے خود کو 10 گنا زیادہ محفوظ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
یورپی ٹرانسپورٹ سیکیورٹی کونسل کے ترجمان ڈڈلی کرٹس نے اس حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسلا کو چاہیے کہ وہ اپنا یہ تمام ڈیٹا کسی یونیورسٹی یا اہل محققین کو دے تاکہ اس کی آزادانہ تصدیق ہو سکے، اس کے بعد ہی اس پر کوئی بات کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسلا سیمی الیکٹرک ٹرک ماس پروڈکشن میں داخل: خصوصیات، رینج اور قیمت کا جائزہ
دوسری جانب ہالینڈ کے ادارے نے نیدرلینڈز میں اس سسٹم کے استعمال کی منظوری تو دے دی ہے لیکن انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا انہوں نے ٹیسلا کے امریکی سیکیورٹی اعداد و شمار کی خود سے کوئی تصدیق کی ہے یا نہیں۔
نیدرلینڈز سے منظوری ملنے کے بعد اب ٹیسلا کے حکام سویڈن کے حکام سے بھی رابطہ کر کے اسی متنازع پریزنٹیشن کی بنیاد پر وہاں بھی منظوری حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوچکے ہیں۔














