برطانیہ کی کورٹ آف اپیل نے فیصلہ دیا ہے کہ فلسطین نواز کارکن تنظیم ’فلسطین ایکشن‘ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا حکومتی فیصلہ قانونی تھا۔
یوں عدالت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا جس میں مذکورہ حکومتی پابندی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
گزشتہ روز سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے حکومت کی جانب سے دائر اپیل منظور کر لی۔
حکومت نے فروری میں ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیررازم ایکٹ 2000 کے تحت فلسطین ایکشن پر پابندی غیر قانونی اور غیر متناسب اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئرش مصنفہ سیلی رونی کا برطانیہ میں فلسطین ایکشن سے منسلک قیدیوں کی مبینہ بدسلوکی پر اظہارِ تشویش
فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس سو کار نے کہا کہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پابندی کا فیصلہ تمام متعلقہ عوامل کے درمیان ایک منصفانہ توازن قائم کرتا ہے۔
’ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تنظیم پر پابندی کے فیصلے نے مناسب توازن برقرار رکھا، لہٰذا ہم نے وزیر داخلہ کی اپیل منظور کر لی ہے۔‘
دوسری جانب فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہُدیٰ عموری نے کہا کہ وہ اس پابندی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گی اور اس معاملے کو سپریم کورٹ اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق تک لے جائیں گی۔
ان کے مطابق یہ اقدام جدید برطانوی تاریخ میں آزادی اظہار اور حقِ احتجاج پر شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔
Today's ruling by the Court of Appeal is deeply disappointing.
This case remains about much more than one group.
What’s important for all of us to understand is that proscribing a group as a terrorist organisation is one of the strongest powers the government has.
The… pic.twitter.com/i0tbRSrB7y
— Amnesty UK (@AmnestyUK) June 15, 2026
جولائی 2025 میں پابندی نافذ ہونے کے بعد سے فلسطین ایکشن کی حمایت سے متعلق 3 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اپنے فیصلے میں چیف جسٹس سو کار نے کہا کہ فلسطین ایکشن کا طرزِ عمل کسی پرامن براہِ راست کارروائی کرنے والے گروپ جیسا نہیں تھا۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا نے اپریل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ پابندی سے آزادی اظہار پر شدید قدغن لگنے کے دعوے مبالغہ آمیز حد تک غلط ہیں۔
چیف جسٹس نے تسلیم کیا کہ پابندی ایک انتہائی متنازع اقدام ہے اور تنظیم کو بہت سے قانون پسند شہریوں کی حمایت حاصل تھی۔
مزید پڑھیں: لندن میں ’فلسطین ایکشن‘ پر پابندی کے خلاف تاریخی احتجاج، 466 سے زائد افراد گرفتار
تاہم انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ فلسطین ایکشن نے کھلے عام ایسی غیر قانونی پرتشدد سرگرمیوں کی حمایت کی جو دہشتگردی کے زمرے میں آتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں نہ صرف املاک کو نقصان پہنچا بلکہ افراد زخمی بھی ہوئے، اور تنظیم نے کبھی یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کی ایسی کارروائیاں غلطی یا استثنائی نوعیت کی تھیں۔
عدالت کے مطابق فلسطین ایکشن کی مہم قانونی کاروباری اداروں کو بند کروانے کے لیے ترتیب دی گئی تھی، جبکہ تیسرے فریق کے افراد اور املاک کو لاحق مستقبل کے خطرات بھی فیصلہ کرتے وقت اہم عوامل تھے۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا رد عمل
ادھر ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے عدالت کے فیصلے کو انتہائی مایوس کن قرار دیا ہے۔
تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فلسطین ایکشن کو دہشتگرد تنظیم قرار دینا انسدادِ دہشتگردی کے اختیارات کا سنگین غلط استعمال ہے جس کے انسانی حقوق پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اسی طرح ’لفٹ دی بین‘ مہم کی قیادت کرنیوالی ڈیفینڈ آور جیوریز نامی تنظیم نے بھی فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدالتوں کو نسل کشی کی مخالفت کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ انہیں اس کے برعکس کردار ادا کرنا چاہیے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ان کی مہم حکومت کی جانب سے اپنے مبینہ جرائم پر پردہ ڈالنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوششوں کے خلاف احتجاج جاری رکھے گی۔














