‘سان اینڈریاس’ اور ‘سان جیکنٹو’ فالٹ سسٹمز پر دباؤ بڑھ گیا، بڑے زلزلے کا خدشہ

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یونیورسٹی آف ہوائی ایٹ مانوا کی قیادت میں کی جانے والی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کیلیفورنیا میں موجود ‘سان اینڈ’ اور ‘سان جیکنٹو’ فالٹ سسٹمز پر تناؤ کی شرح گزشتہ 1,000 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

جیو فزیکل ریسرچ کے جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ان فالٹ لائنز پر اس قدر شدید دباؤ کے باعث کسی بھی وقت ایک بہت بڑا زلزلہ آسکتا ہے، کیونکہ اس پورے نظام میں گزشتہ 160 سالوں سے کوئی بڑا زلزلہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان میں 7.6 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری کردی گئی

 سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دونوں فالٹ سسٹمز پر دباؤ کا رخ ایک ہی سمت میں ہونے کی وجہ سے یہ خطرہ موجود ہے کہ دونوں فالٹ لائنز ایک ساتھ ٹوٹیں اور ایک انتہائی تباہ کن زلزلے کا سبب بنیں۔

محققین نے اپنی اس ریسرچ میں کاہون پاس کی نشاندہی کی ہے، جو ان دونوں فالٹ لائنز کے سنگم پر واقع ہے اور ایک ‘ارتھ کوئیک گیٹ’ (زلزلہ روکنے یا گزرنے دینے والے راستے) کا کام کرتا ہے۔

 ماضی میں یہ جنکشن کسی بڑے زلزلے کے پھیلاؤ کو روکنے کا سبب بنتا رہا ہے، لیکن بعض اوقات یہ دباؤ کو آگے منتقل کر کے ایک بہت بڑی تباہی کا راستہ بھی ہموار کر دیتا ہے۔

 خاتون سائنسدان للیان برکھارڈ کے مطابق اس گیٹ کے کھلنے یا بند رہنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ زلزلے کے وقت دونوں فالٹ سسٹمز پر دباؤ کی صف بندی کتنی یکساں ہے، اور اس وقت پورے خطے میں یہ دباؤ تاریخی طور پر بلند ترین سطح پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں 7.8 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ جاری

سائنسدانوں نے کمپیوٹر ماڈلنگ اور درختوں کے چھلوں سمیت مٹی کے ریکارڈ کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے 1,000 سالہ تاریخ کا جائزہ لے کر یہ نتائج اخذ کیے ہیں. تاہم، محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ زلزلے کے آنے کے وقت کی کوئی پیشگوئی نہیں ہے، بلکہ یہ صرف خطرے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ایک سائنسی تجزیہ ہے۔

 رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس دباؤ کی وجہ سے زلزلہ آتا ہے تو لاس اینجلس، سان برنارڈینو، رورسائیڈ اور کوچیلا ویلی جیسے بڑے آبادی والے مراکز کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو پہلے سے تیار رہنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp