امریکی تحقیقاتی ادارے ‘ایف بی آئی’ اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے اتوار 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ‘یو ایف سی فریڈم 250’ کی تقریب پر بارود سے بھرے ڈرونز کے ذریعے حملے کی ایک انتہائی ہولناک سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ: امریکی سیکریٹ سروس کی سربراہ مستعفی
امریکی حکام کے مطابق، یہ تقریب امریکہ کے 250 سال مکمل ہونے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد کی جا رہی تھی۔
مشتبہ گروہ کا پلان تھا کہ تقریب کے قریبی عمارتوں پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرونز سے حملہ کر کے وہاں بھگدڑ اور بڑے پیمانے پر انخلا کی صورتحال پیدا کی جائے، تاکہ وہاں سے نکلنے والے ہجوم کو پہلے سے چھپے ہوئے اسنائپرز (نشانہ بازوں) کا نشانہ بنایا جا سکے، جبکہ اس ہولناک منصوبے کے دوسرے حصے میں وائٹ ہاؤس پر دھاوا بولنا بھی شامل تھا۔
وفاقی تحقیقاتی حکام کو اس سنگین خطرے کی اطلاع 10 جون کو موصول ہوئی تھی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سنسناٹی کے علاقے سے گرفتاریاں عمل میں لائیں۔
On June 10, FBI and our law enforcement partners became aware of a potential threat to the UFC America 250 event in Washington, D.C. involving individuals outside of the National Capital Region – and thanks to the rapid action of this FBI, our partners, and the Department of… pic.twitter.com/PbWkIk1Lr5
— FBI Director Kash Patel (@FBIDirectorKash) June 16, 2026
تفتیش کے دوران ایک مشتبہ ملزم کے آئی فون سے حاصل ہونے والے سگنل ایپلی کیشن کے پیغامات سے معلوم ہوا ہے کہ کم از کم 23 افراد اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی گفتگو میں باقاعدہ شامل تھے، جن میں سے کچھ ارکان نے فائنل تیاریوں کے لیے 12 یا 13 جون کو ورجینیا کے علاقے فریڈرکسبرگ کا سفر بھی کرنا تھا۔
پکڑے گئے پیغامات کے مطابق، یہ نیٹ ورک ارب پتی شخصیات، سیاست دانوں اور ‘امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی’ سے وابستہ ایلیٹ کلاس کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، اور اب تک اس وسیع تحقیقات کا دائرہ کار ایف بی آئی کے کم از کم 12 فیلڈ دفاتر تک پھیل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ، اسنائپر نے شوٹر کو دیکھنے کے باوجود گولی نہیں چلائی، اہم ویڈیو سامنے آگئی
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کامیاب آپریشن کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایجنٹوں اور محکمہ انصاف کی مشترکہ کثیر ریاستی کارروائی کی بدولت متعدد افراد اس وقت حراست میں ہیں اور اس گھناؤنے منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے بہترین کارکردگی پر اپنے ایجنٹوں اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا عمل ابھی جاری ہے اور عوام کو اس حوالے سے مسلسل اپڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں جاری اس کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 5 مشتبہ ملزمان کو باقاعدہ گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ اس وسیع تر سازش میں ملوث دیگر 23 افراد کی شناخت بھی کر لی گئی ہے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔














