کان کنی تنازع خونریز تصادم میں بدل گیا، بی جے پی رہنما سمیت 3 افراد زندہ جل کر ہلاک

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ریت کی کان کنی کے تنازع پر ہونے والے پرتشدد حملے میں حکمران جماعت بی جے پی کے ایک مقامی رہنما سمیت 3 افراد زندہ جل کر ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں:چین: کوئلے کی کان میں خوفناک گیس دھماکا، 82 کان کن ہلاک، 188 زخمی

پولیس کے مطابق واقعہ کوریہ ضلع کے سون ہٹ تحصیل کے علاقے کٹگوڑی گاؤں میں پیش آیا، جہاں 2 گروپوں کے درمیان کان کنی کے کاروبار پر جاری تنازع خونریز جھڑپ میں تبدیل ہوگیا۔

حملہ آوروں نے مبینہ طور پر مخالف گروپ کی گاڑیوں پر دھاوا بول دیا اور ایک ایس یو وی کو ٹکر مار کر اس کے دروازے جام کر دیے، جس کے بعد گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔

رپورٹس کے مطابق بی جے پی رہنما بھارت سنگھ گاڑی کے اندر پھنس گئے اور زندہ جل کر ہلاک ہو گئے، جبکہ 2 دیگر افراد بھی جان کی بازی ہار گئے۔ کئی زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: 73 افراد کی ہلاکت کی بنیادی وجہ دم گھٹنا قرار

پولیس نے واقعے کو کان کنی کے کاروبار پر قبضے کی جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق حملہ بظاہر پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور اس کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا