گوگل کے انجینئرنگ کے نائب صدر اور جیمنی اے آئی ماڈلز کے شریک سربراہ نوم شیزیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ کمپنی چھوڑ کر اوپن اے آئی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ میں اوپن اے آئی میں شامل ہو رہا ہوں اور وہاں کی غیرمعمولی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔
I’m excited to share that I’ll be joining OpenAI and look forward to working with the exceptional team there.
It was a difficult decision to move on. I’m incredibly proud of the amazing team at Google and everything we’ve built together. It has been an honor and a pleasure to…
— Noam Shazeer (@NoamShazeer) June 18, 2026
امریکی کمپیوٹر سائنسدان نے مزید کہا کہ گوگل کو چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ مجھے گوگل کی شاندار ٹیم اور ان تمام کامیابیوں پر بے حد فخر ہے جو ہم نے مل کر حاصل کیں۔ آپ سب کے ساتھ کام کرنا میرے لیے اعزاز اور خوشی کی بات رہی ہے۔
ایکس پر صارفین کی اکثریت کا خیال تھا کہ نوم شیزیر کی رخصتی گوگل کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کمپنی نے 2024 میں انہیں واپس لانے کے لیے 2.7 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ملازمتیں نہیں کھا رہی کام کا انداز بدل رہی ہے، جونیئرز سیکھنے سے محروم ہوسکتے ہیں، معروف بینکار ڈیوڈ سولومن
شیزیر نے 2021 میں اس وقت گوگل چھوڑ دیا تھا جب کمپنی نے ان کے تیار کردہ ایک مکالماتی چیٹ بوٹ کو جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے Character.AI کی مشترکہ بنیاد رکھی۔
2024 میں گوگل نے Character.AI کے ساتھ 2.7 ارب ڈالر کا لائسنسنگ معاہدہ کیا جس کے تحت نوم شیزیر اور ان کی ٹیم کے کئی ارکان دوبارہ گوگل کا حصہ بن گئے۔ اس وقت وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس معاہدے کا ایک اہم مقصد نوم شیزیر کو دوبارہ گوگل میں لانا تھا۔
48 سالہ نوم شیزیر گوگل کے ابتدائی ملازمین میں شامل تھے اور مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ 2017 میں انہوں نے گوگل کے سات دیگر محققین کے ساتھ مل کر تاریخی تحقیقی مقالہ ‘Attention Is All You Need’ تحریر کیا، جس میں ٹرانسفارمر آرکیٹیکچر متعارف کرایا گیا۔ یہی ٹیکنالوجی آج کے بیشتر جدید اے آئی سسٹمز کی بنیاد تصور کی جاتی ہے۔














