پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو نے ملک بھر میں 130 ایسی گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر خطرناک ہیں اور جن سے اچانک سیلاب (گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز) کے ذریعے زیریں علاقوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’پانی کا ہر قطرہ اہم ہے‘: ارجنٹائن کے پگھلتے گلیشیئرز دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی
حکام کے مطابق سپارکو سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے ان جھیلوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور متعلقہ اداروں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔
نشاندہی شدہ 130 خطرناک جھیلوں میں سے صرف 24 اس وقت غیر منجمد اور واضح طور پر قابلِ مشاہدہ ہیں۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے ان جھیلوں کے اطراف موجود آبادیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو کسی بھی ممکنہ سیلاب کی صورت میں متاثر ہو سکتی ہیں۔
وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ یہ صورتحال گھبراہٹ کا باعث نہیں بلکہ تیاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا موسمیاتی نگرانی کا نظام اب زیادہ مضبوط اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان جھیلوں کی مسلسل نگرانی انتہائی ضروری ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شمالی پاکستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔
دوسری جانب سپارکو نے ملک میں کم بارشوں، موسمِ گرما میں شدید گرمی کی لہروں، خشک سالی اور گرم سردیوں کی پیشگوئی بھی کی ہے۔
ادارے کے مطابق ایل نینو مرحلہ فعال ہو چکا ہے جس کے باعث وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے جو پاکستان کے موسم پر سنہ 2026 کے مون سون اور سردیوں کے دوران اثر انداز ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری نے عالمی گلیشیئرز ڈے پر اپنے پیغام میں کیا کہا؟
ماہرین کے مطابق قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سائنسی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ متاثرہ آبادیوں کو بروقت محفوظ بنایا جا سکے۔














