پانی کا بطور ہتھیار استعمال عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ، بھارت کی آبی بالادستی قبول نہیں، اسحاق ڈار

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی مقاصد اور انہیں دوسرے ممالک کے خلاف ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری کو اس طرز عمل کی سنگینی اورخطرے سے آگاہ کیا ہے۔

جمعرات کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس جانب عالمی برادری کی توجہ برسلز میں منعقدہ ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’ٹرانسباؤنڈری واٹر ریسورسز: ویپونائزڈ گلوبل کامن (سرحد پار آبی وسائل: عالمی سطح پر بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہوا خطرہ) سےاپنے کلیدی خطاب میں دلائی۔ اس کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی، پانی کے انتظام اور بین الاقوامی قانون کے نامور عالمی ماہرین شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی بقا، خودمختاری اور آبی سلامتی کی ضمانت قرار

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ پانی انسانی بقا اور وقار کا معاملہ ہے، اسے کسی بھی ملک کے خلاف دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

پانی تنازع نہیں، امن کا ذریعہ بننا چاہیے

اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے سابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے تاریخی مؤقف کا حوالہ دیا کہ پانی کے بحران اکثر قلت سے زیادہ انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مشترکہ آبی وسائل اگر باہمی اعتماد اور طے شدہ فریم ورک کے تحت چلائے جائیں تو وہ علاقائی امن کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اگر انہیں یکطرفہ اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ شدید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں‘۔

سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اور بھارتی ’آبی بالادستی‘ پر تشویش

وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ‘سندھ طاس معاہدے’ کو جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک تاریخی اور مؤثر فریم ورک قرار دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ 3 جنگوں اور کئی سیاسی بحرانوں کے باوجود برقرار رہا۔

تاہم اسحاق ڈار نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مختلف ڈیموں، ذخائرِ آب اور دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی کے منصوبوں کے ذریعے بھارت خطے میں ’ہائیڈرو ہیجمنی‘ (آبی بالادستی) قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ معاہدے کی روح کے سراسر منافی ہے۔

24 کروڑ پاکستانیوں کی بقا کا مسئلہ

سندھ طاس کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی، تاریخی اور معاشی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔

دنیا کی قدیم ترین ’وادیٔ سندھ کی تہذیب‘ اسی خطے میں پروان چڑھی اور آج بھی پاکستان کی زراعت اور معیشت کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات 24 کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں پر پڑ سکتے ہیں جسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی برادری سے اپیل

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: اقوامِ متحدہ کے سوالات پر بھارت کی طویل خاموشی پر عالمی اور قانونی حلقوں کی تشویش

انہوں نے یورپ میں سرحد پار آبی وسائل کے کامیاب انتظام کی مثالیں دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہی عالمی نظام کی بنیاد ہے اور اسی اصول پر کاربند رہنا ہوگا۔

سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین

اپنے خطاب کے اختتام پر نائب وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قانونی فورمز پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ آج کی دنیا کو اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ مشترکہ دریا اور آبی وسائل ممالک کو تقسیم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنیں اور سرحد پار پانی کے انتظام میں تعاون، نہ کہ جبر، بنیادی اصول ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی کے ایک اور کیس کا فیصلہ آگیا، محمودالرشید، عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، یاسمین راشد کو 10،10 سال قید کی سزا، شاہ محمود بری

ایران جنگ کے بعد چین کا سفارتی اثر و رسوخ بڑھ گیا، سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ

یلو اسٹون میں خلائی مخلوق کی تلاش، سائنسدانوں کی تحقیق سے مریخ پر زندگی کے شواہد ملنے کی امید

امریکا اور ایران کے ایلچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، سیز فائر کے باوجود لبنانی علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری

پاک فوج میں بغاوت کی بات کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے، کشمیری قیادت کا مطالبہ

ویڈیو

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر

شہباز شریف کا وعدہ پورا، پیٹرول کی قیمت میں 74روپے کمی، امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو کھری کھری سنادیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا، جنگ ختم نہ ہونے پر پیٹرول کی قیمت 10ہزار روپے ہوتی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘