بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیوں کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
مختلف ممالک کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں، تاہم عالمی ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ آیا مکمل پابندی ہی اس مسئلے کا بہترین حل ہے یا نہیں۔
آسٹریلیا، برطانیہ اور یو اے ای کے سخت ترین اقدامات
دسمبر 2025 میں آسٹریلیا نے دنیا کے سخت ترین قوانین میں سے ایک متعارف کرایا، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کو یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ایکس (ٹوئٹر) استعمال کرنے سے قانونی طور پر روک دیا گیا۔
اس قانون پر عمل نہ کرنے والی ٹیک کمپنیوں کو 50 ملین آسٹریلوی ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محرم میں امن و امان کے لیے پنجاب حکومت متحرک، سوشل میڈیا مانیٹرنگ مزید سخت
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، 15 جون 2026 کو برطانیہ نے بھی باقاعدہ اعلان کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی جس کا نفاذ 2027 کے موسمِ بہار سے متوقع ہے۔
اس اعلان کے چند ہی روز بعد متحدہ عرب امارات پہلا عرب ملک بن گیا جس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا چلانے پر سخت پابندی عائد کر دی۔
اماراتی قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نئے نظام پر عمل درآمد کے لیے 12 ماہ کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ وہاں والدین کی اجازت بھی اس پابندی کو ختم نہیں کر سکتی۔
فرانس، ملائیشیا، انڈونیشیا اور کینیڈا بھی اب اسی نوعیت کے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
بچوں کی ذہنی صحت اور شخصیت پر سوشل میڈیا کے نقصانات
ذہنی صحت کی ماہر منیزہ ظفر کا کہنا ہے کہ ’بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی ایک مثبت آغاز ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے ایسا کوئی نمایاں فائدہ نہیں ملتا جو کھیل کود، خاندان یا عملی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل نہ ہو سکے‘۔
کلینیکل ماہرِ نفسیات سیدہ علیزہ شاہ کے مطابق، مسلسل سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے دماغی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:ساڑھی پہن کر مائیکل جیکسن کے شاندار ڈانس اسٹیپس، بھارتی خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
انہوں نے سائنسی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلسل آنے والے نوٹیفیکیشنز دماغ کے مختصر مدتی انعامی نظام کو ہر وقت متحرک رکھتے ہیں، جس سے بچوں کی توجہ اور حقیقی زندگی کے کاموں پر یکسوئی بری طرح متاثر ہوتی ہے‘۔
چائلڈ سائیکالوجسٹ خوبی خلیق نے بھی اس تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی توجہ، ذہنی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت، سماجی روابط اور رویوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’توجہ کا دورانیہ کم ہونا، تناؤ سے نمٹنے کی کمزور صلاحیت، سطحی سماجی تعلقات اور تشدد پر مبنی مواد کی نمائش بچوں کی شخصیت کو مسخ کر رہی ہے، اگرچہ ہر چیز کا ایک مثبت پہلو بھی ہوتا ہے‘۔
پابندیوں پر عمل درآمد، ایک ناممکن چیلنج؟
اگرچہ حکومتیں قانون سازی کر رہی ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد ایک بہت بڑا تکنیکی مسئلہ بن چکا ہے۔
آسٹریلیا میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، قانونی پابندی کے باوجود 60 فیصد سے زیادہ نوجوان مختلف چور راستوں سے اپنے اکاؤنٹس استعمال کرتے پائے گئے، جن میں والدین کی شناختی معلومات کا استعمال، وی پی اینز اور دیگر تکنیکی طریقے شامل تھے۔
ماہرِ نفسیات سیدہ علیزہ شاہ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کے دور میں آپ کسی بھی مصنوعی ذہانت سے ان پابندیوں کو عبور کرنے کا طریقہ پوچھیں تو وہ آپ کو سیکنڈوں میں بتا دے گی‘۔
صرف پابندی کافی نہیں، والدین کی تربیت بھی اہم ہے
میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے بانی اور ڈائریکٹر اسد بیگ مکمل پابندیوں کے بجائے والدین کی آگاہی اور تربیت پر زور دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’آسٹریلیا یا برطانیہ کی طرح اندھی پابندی لگانے کے بجائے ہمیں والدین کی تعلیم اور رہنمائی سے آغاز کرنا چاہیے‘۔
اسد بیگ نے خبردار کیا کہ ’صرف بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی والدین کو ایک جھوٹی تسلی دے سکتی ہے، جبکہ روبلوکس اور پب جی جیسے آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز پر بھی بچوں کو نشانہ بنانے والے شکاری عناصر موجود ہوتے ہیں جن پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔
پاکستان کے لیے معاشی چیلنجز اور مختلف سماجی ماحول
پاکستانی تناظر میں بات کرتے ہوئے اسد بیگ نے واضح کیا کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی حالات آسٹریلیا یا برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے یکسر مختلف ہیں، اس لیے مغرب کی پالیسی یہاں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں لاکھوں نوجوان فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے انٹرنیٹ سے اپنا روزگار کما رہے ہیں، ایسی صورت میں اندھا دھند پابندیاں الٹا ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ممکن ہے کہ یہ مغربی ماڈل پاکستان میں بری طرح ناکام ہو جائے‘۔
عالمی سطح پر مستقبل کی حکمتِ عملی مبہم
اگرچہ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر سو فیصد متفق ہیں کہ سوشل میڈیا بچوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، لیکن اس کے مستقل حل کے حوالے سے شدید ترین اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔
جہاں کچھ ماہرین سخت حکومتی پابندیوں کو ناگزیر سمجھتے ہیں، وہیں ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
زیادہ تر معتدل ماہرین کا خیال ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے ‘والدین کی تربیت، ڈیجیٹل خواندگی اور بچوں کی مستقل رہنمائی’ زیادہ پائیدار اور مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں گرما گرم بحث کے ساتھ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ایک ہی سخت پالیسی ہر معاشرے اور ہر ملک کے لیے یکساں طور پر کارآمد ہو سکتی ہے یا نہیں؟














