سعودی عرب کے تاریخی شہر جدہ میں واقع ریڈ سی میوزیم میں جدہ میں ’طائف ‘کی روح کے عنوان سے ایک پروقار نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین نے دونوں شہروں کے درمیان صدیوں پرانے تجارتی، ثقافتی اور فنی تعلقات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
تقریب میں ورثہ، فن اور ثقافت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی اور دونوں خطوں کی مشترکہ روایات کو سراہا۔
تجارت اور ثقافتی تبادلے کا تاریخی پس منظر
نشست کی نظامت ایمان زیدان نے کی، جبکہ مقررین میں سمیہ شویل، ابراہیم الشایہ، بندر الشریف اور عزام الغامدی شامل تھے۔
ایمان زیدان نے طائف اور جدہ کے دیرینہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تاریخی جدہ ہمیشہ سے تجارت اور ثقافتی تبادلوں کا ایک اہم دروازہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جدہ میں گرینڈ حج سمپوزیم، دنیا بھر سے وزرائے مذہبی امور اور حج وفود کی شرکت
انہوں نے باب البنط جیسے تاریخی علاقوں کا خاص طور پر ذکر کیا، جہاں ماضی میں تاجر اور مسافر طائف کی زرعی پیداوار سمیت مختلف علاقوں کا سامان لایا کرتے تھے۔
اس موقع پر ماہرِ آثارِ قدیمہ ابراہیم الشایہ نے جدہ کو ایک تاریخی بحری دروازہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں سے سامان، خوراک اور ثقافت پورے مغربی سعودی عرب میں منتقل ہوتی تھی۔
طائف کی زرعی پیداوار جدہ کی منڈیوں کے ذریعے زائرین اور حاجیوں تک پہنچتی تھی، جس نے دونوں شہروں کے اقتصادی اور سماجی تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔
طارق عبدالحکیم کی فنی خدمات
گفتگو کے دوران سعودی عرب کے معروف موسیقار طارق عبدالحکیم کی خدمات کا تذکرہ بھی تفصیلاً کیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ طائف میں ان کی پرورش اور بعد ازاں جدہ سے وابستگی نے ان کے فنی سفر کو تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بندر الشریف نے سعودی ثقافتی شناخت پر طائف کے اثرات، خصوصاً روایتی ’المجرور‘ موسیقی پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ثقافتی ادارے زبانی روایات اور ورثے سے جڑی موسیقی کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
طائف اور جدہ کا ثقافتی رشتہ
ایمان زیدان نے بتایا کہ وزارتِ ثقافت اور کلنری کمیشن کی معاونت سے شروع کیے گئے اقدامات کی بدولت اب جدہ اور طائف بین الاقوامی سطح پر کھانوں کے اہم مراکز کے طور پر پہچانے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:سعودی ولی عہد اور یوکرینی صدر کے درمیان جدہ میں اہم ملاقات، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق
ثقافتی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے سمیہ شویل نے کہا کہ ’جدہ ورثے، بازاروں اور سمندر کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ طائف کھیتوں، گلابوں اور قدرتی مصنوعات کی پہچان ہے۔ دونوں مل کر پائیداری پر مبنی ایک مکمل ثقافتی اور ذائقہ دار تجربہ فراہم کرتے ہیں‘۔
قدرتی خوشبوئیں اور روایتی مصنوعات
عزام الغامدی نے خطے میں قدرتی خوشبوؤں اور روایتی غذاؤں کی قدیم روایت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طائف کے مشہورِ زمانہ گلاب، افسنطین، لیمن گراس اور لیونڈر سے تیار کردہ مصنوعات کو اس ثقافتی ورثے کی نمایاں ترین مثالیں قرار دیا۔
طائف کی روایتی موسیقی اور عطر کشید کرنے کا عملی مظاہرہ
تقریب کے اختتام پر طائف کی روایتی موسیقی کی براہِ راست پرفارمنس پیش کی گئی، جبکہ قدرتی عطر کشید کرنے کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس سے شرکا کو ان روایات کا براہِ راست تجربہ حاصل ہوا۔
ایمان زیدان کے مطابق ریڈ سی میوزیم ہر ماہ مباحثوں، ورکشاپس اور نمائشوں کے ذریعے ایک فعال ثقافتی مرکز کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جس میں جاری ’سنکن ٹریژرز‘ نمائش بھی شامل ہے، جو اگست کے وسط تک جاری رہے گی۔














