وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 74 روپے اور 68 روپے کی نمایاں کمی کے بعد ملک بھر کے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا ہے۔
مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کی جانب سے جاری کردہ اعلانات کے مطابق مسافر اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد سے 18 فیصد تک کمی کی گئی ہے، تاہم عملی طور پر صرف 5 فیصد کمی کی گئی ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ کرایوں میں اضافہ تو زیادہ کیا گیا تھا جبکہ کمی نہ ہونے کے برابر کی گئی ہے، مسافر ٹرینوں کے کرائے بھی کم نہیں کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر
صدر آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15 فیصد کمی کی جا رہی ہے تاکہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ریلیف عوام تک منتقل کیا جا سکے۔
اس فیصلے کے باوجود مختلف شہروں کے درمیان سفر کے کرایوں میں نمایاں کمی نہیں آئی ہے۔ اسلام آباد سے ملتان کا کرایہ پہلے 2950 تھا جو کہ 2800 کر دیا گیا ہے۔
اسی میں ایگزیگٹیو بس کا کرایہ 4300 سے کم کر کے 4100 کیا گیا ہے، جبکہ پشاور سے اسلام آباد سفر کرنے والوں کا کے کرایوں میں ایک روپے کی کمی بھی نہیں کی گئی ہے۔

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مال برداری کے کرایوں میں 15 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے، ایسوسی ایشن کے صدر نبیل محمود کے مطابق یہ فیصلہ ڈیزل کی قیمت میں کمی کا براہ راست فائدہ عوام اور کاروباری طبقے کو پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اس سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی، تاہم ابھی تک گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کوئی بڑی کمی نہیں کی گئی ہے۔
پاکستان منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر مال برداری کے کرایوں میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات سستی ہوتے ہی مریم نواز کا کرایوں میں کمی کا حکم، عوام کو ریلیف پہنچانے پر زور
تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ براہ راست عوام سے جڑا ہوا ہے، اس لیے حکومتی ریلیف کو صارفین تک منتقل کرنا ان کی ذمہ داری ہے، مال گاڑیوں نے اپنے کرایوں میں 10 سے 12 فیصد تک کی کمی کر دی ہے۔
ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے بھی کرایوں میں نمایاں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈیزل پر چلنے والی اے سی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 12 فیصد، نان اے سی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15 فیصد جبکہ پیٹرول پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی 15 فیصد کمی کی گئی ہے تاہم عملی طور پر ابھی کرایوں میں کمی نہیں ہو سکی ہے۔
ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے تمام بس اڈوں اور ٹرانسپورٹ ٹرمینلز کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے کرایہ نامے اور بینرز فوری طور پر آویزاں کیے جائیں تاکہ مسافروں کو نظرثانی شدہ کرایوں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔

ملتان جانے والے مسافر محمد شہزاد نے بتایا کہ وہ ہر ہفتے اسلام آباد سے ملتان سفر کرتے ہیں، ان کے مطابق جب جمعے کے روز ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کی گئی تو انہیں امید تھی کہ بس کرایوں میں بھی 15 سے 20 فیصد تک کمی کی جائے گی، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔
محمد شہزاد کے مطابق جب وہ فیض آباد بس ٹرمینل پہنچے تو معلوم ہوا کہ کرایوں میں صرف ڈیڑھ سو روپے کی کمی کی گئی ہے، جو مجموعی طور پر تقریباً 5 فیصد بنتی ہے، ان کے مطابق اسلام آباد سے ملتان کا کرایہ 2950 روپے سے کم ہو کر 2800 روپے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے ملتان کا کرایہ 2400 روپے سے بڑھا کر 2900 روپے کر دیا تھا، تاہم اب ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود کرایوں میں متناسب کمی نہیں کی جا رہی۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ایک سال میں کتنے ارب ڈالر خرچ کیے گئے؟
دوسری جانب عبدالباسط نے بتایا کہ انہوں نے پشاور سے اسلام آباد کا سفر کیا، لیکن ان کے کرائے میں ایک روپے کی بھی کمی نہیں کی گئی، ان کے مطابق معمول کے مطابق ان سے 800 روپے کرایہ وصول کیا گیا۔
عبدالباسط کا کہنا تھا کہ جب مسافروں نے بس ڈرائیور سے کرایوں میں کمی نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو ڈرائیور نے جواب دیا کہ ہمارے کرائے پہلے ہی کم ہیں، ہم مزید کمی کرکے کیسے کام کریں۔
مسافروں نے حکومت اور متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے عوام کو ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی آ سکے۔













