بڑے اور چھوٹے اداکاروں کے لیے کھانے کا الگ مینیو، بالی ووڈ کا بدنما چہرہ بے نقاب

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی ووڈ فلم اور ٹیلی ویژن انڈسٹری کی چمک دمک کے پیچھے کریکٹر آرٹسٹس کو درپیش مشکلات اور مبینہ امتیازی سلوک ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔ اداکارہ سنیتا راجور اور اداکار جتن نیگی نے انڈسٹری کے اندر موجود رویوں، ادائیگیوں میں تاخیر اور سیٹ پر تقسیم کے نظام سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

ان اداکاروں کے مطابق فلم انڈسٹری باہر سے جتنی پرکشش دکھائی دیتی ہے اندرونی طور پر اتنی ہی پیچیدہ اور طبقاتی تقسیم کا شکار ہے جہاں مرکزی اور معاون کردار ادا کرنے والوں کے درمیان واضح فرق رکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ نے میرا گانا ’نچ پنجابن‘ جعلی دستاویزات کے ذریعے چوری کیا، ابرار الحق کا الزام

جتن نیگی نے بتایا کہ کریکٹر آرٹسٹس کو اکثر اس وقت تک مناسب عزت نہیں ملتی جب تک وہ بڑے نام نہ بن جائیں۔ ان کے مطابق بڑے پروجیکٹس میں لیڈ اداکاروں کو خصوصی سہولیات جیسے علیحدہ وینٹی وین اور عملہ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ چھوٹے کردار ادا کرنے والوں کو اکثر محدود سہولیات یا مشترکہ انتظامات میں رکھا جاتا ہے۔

سنیتا راجور کے مطابق سیٹ پر لیڈ اور کریکٹر آرٹسٹ کے درمیان فرق بعض اوقات سماجی طبقاتی نظام جیسا محسوس ہوتا ہے جہاں مرکزی کردار کے اردگرد ہی تمام توجہ مرکوز رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کی چمک دمک کے پیچھے چھپی تاریک دنیا، مادھوری ڈکشٹ نے بڑا راز کھول دیا

جتن نیگی نے ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سیٹ پر کھانے کے لیے بھی A، B اور C کیٹیگریز بنائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق مرکزی کردار A کیٹیگری میں شامل ہوتے ہیں، جبکہ معاون اور اضافی کردار ادا کرنے والوں کے لیے الگ انتظام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس تقسیم کو ایک غیر صحت مند ماحول قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات کریکٹر آرٹسٹس کو کھانے کے لیے دور جگہ جانا پڑتا ہے جہاں بنیادی سہولیات بھی محدود ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ فلم ’دادی کی شادی‘ پاکستانی ٹیلی فلم کی کاپی ہے، سوشل میڈیا پر سنگین الزامات

جتن نیگی کے مطابق معاون اور چھوٹے کردار ادا کرنے والے فنکاروں کو نہ صرف کم معاوضہ دیا جاتا ہے بلکہ ادائیگیوں میں بھی طویل تاخیر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات یہ ادائیگیاں شو کی ٹیلی کاسٹ کے 90 دن بعد کی جاتی ہیں۔

سنیتا راجور نے بھی اس مسئلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ لیڈ اداکاروں کے مقابلے میں کریکٹر آرٹسٹس کو ادائیگی میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’میں نے سب کھو دیا تھا‘، بالی ووڈ اداکار عامر خان کا چونکا دینے والا انکشاف

جتن نیگی کے مطابق ٹی وی انڈسٹری کریکٹر آرٹسٹس کے لیے نسبتاً بہتر ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہاں مستقل کام اور بہتر تسلسل ملتا ہے جبکہ فلم انڈسٹری میں رویہ زیادہ سخت اور غیر متوازن ہوتا ہے۔

سنیتا راجور کے مطابق عزت اور مقام کا تعلق صرف میڈیم سے نہیں بلکہ کام کے معیار اور رویے سے بھی ہے تاہم انہوں نے انڈسٹری کے بعض تجربات کو مایوس کن قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے برابر بونس ملے گا، بورڈ آف ڈائریکٹرز نے منظوری دے دی

اے آئی بھرتی کے نظام سے 40 سال سے زائد عمر کی خواتین متاثر؟ نوکری کی تلاش میں نئے چیلنجز سامنے آ گئے

پاکستان کی سروسز ایکسپورٹس میں 19 فیصد اضافہ، آئی ٹی شعبہ نمایاں، تجارتی خسارے میں بھی بڑی کمی

مصنوعی ذہانت نے پہلی بار نئے وائرس ڈیزائن کر دیے، طبی تحقیق میں بڑی پیشرفت لیکن نئے خطرات بھی

ٹی وی کی سیاست سے اصل پارلیمنٹ تک، کنزا ہاشمی کا قومی اسمبلی کا دورہ

ویڈیو

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟