امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور تہران نے مستقبل میں غیر معینہ مدت تک اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنے قبول کرنے پر مکمل اور حتمی اتفاق کرلیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اقدام جوہری دیانت داری کو یقینی بنائےگا۔ اگر ایران اس پر رضامند نہ ہوتا تو مزید کسی قسم کے مذاکرات بھی ممکن نہ ہوتے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت، 60 روز میں حتمی امن معاہدے پر اتفاق
صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران کی جانب سے کی جانے والی دیگر اہم رعایتوں کی بنیاد پر انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور وہاں مزید بحری ناکہ بندی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام بحری جہاز بدستور اپنی جگہ موجود رہیں گے تاکہ اگر ضرورت پیش آئے تو ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جا سکے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسا ہونے کا امکان انتہائی کم دکھائی دیتا ہے۔
امریکی صدر نے کہاکہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کی جانے والی رقم یا پابندیوں میں دی جانے والی نرمی ایسکرو اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی، جس کا کنٹرول امریکا کے پاس ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ یہ رقم صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کی جائے گی، اور یہ تمام اشیا خصوصی طور پر امریکا سے خریدی جائیں گی، جن میں امریکی کسانوں کی پیدا کردہ مکئی، گندم اور سویابین بھی شامل ہوں گی۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ یہ وہ اشیا ہیں جن کی ایران کو شدید ضرورت ہے۔ ایران اس وقت ایک انسانی بحران سے دوچار ہے اور ان کے خیال میں بہت دیر ہونے سے پہلے فوری مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران ڈیل: ’تاریخ رقم ہوگئی، پاکستان کی شاندار سفارتکاری نے دنیا کو حیران کردیا‘
دریں اثنا ایک اور بیان میں انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، جو اب تک کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں اور دنیا پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ مقام بن چکی ہے۔














