وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی ہے، مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اس دورے پر بے حد خوشی ہوئی اور وہ ایرانی صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ حقیقی بھائی چارے میں کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس اہم کردار کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ باعزت اور شرف کے اصولوں پر مبنی مستقل امن قائم نہیں ہو جاتا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو اجاگر کرنا چاہوں گا جنہوں نے… pic.twitter.com/uoHZmq1o6b— WE News (@WENewsPk) June 23, 2026
وزیراعظم نے ایران میں ہزاروں افراد کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ دورہ پاکستان کے لیے میری دعوت قبول کرنے پر ایرانی صدر کا مشکور ہوں۔
شہباز شریف نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد امن قائم ہوگا۔ ہم نے پہلے کہا تھا اس جنگ کو رکوانے کے لیے جو کچھ کر سکے کریں گے۔ یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان امن اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہاکہ آج ہم یہاں روشن مستقبل کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور ہم پائیدار معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دے گا اور ایران جلد ایک بڑی معیشت بنے گا۔
وزیراعظم نے امن کوششوں میں تعاون پر دوست ملکوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
مزید پڑھیں: ایرانی صدر سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، باہمی دلچسپی، خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے مزید کہاکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بھی اس عمل میں اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہاکہ مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت اور لگن قابل ستائش ہے۔
ایران کے میزائل پروگرام کی حمایت کا اعلان
وزیراعظم نے ایران کے میزائل پروگرام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ایران کا میزائل کا کبھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنا، یہ نہیں ہو سکتا کہ دوسرے ممالک کے پاس میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے ایک روزہ دورے پر ہیں، اس سے قبل پاکستان پہنچنے پر صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نور خان ایئربیس پر ان کا استقبال کیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایران کا اعلیٰ سطحی وفد بھی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ پاکستان پہنچا۔
ایئرپورٹ پر ایرانی صدر کے اعزاز میں شاندار استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے بھی فلائی پاسٹ کے ذریعے انہیں سلامی پیش کی۔
بعد ازاں وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ جس کے بعد انہوں نے صدر مملکت آصف زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔
استقبالیہ تقریب کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے تعارف کرایا، جبکہ ایرانی صدر نے بھی اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کرایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے وفاقی کابینہ کا تعارف کروایا، ایرانی صدر نے وزیراعظم ہاؤس میں یادگاری پودا بھی لگایا pic.twitter.com/9WMbskcavD
— WE News (@WENewsPk) June 23, 2026
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستانی کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جبکہ 60 روز میں حتمی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔














