میڈیا کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں صحافت انسانی سلامتی، وقار اور ذمہ داری سے عبارت ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی
مری میں منعقدہ 2 روزہ ورکشاپ ’مسلح تنازعات اور ہنگامی حالات میں انسانی ہمدردی پر مبنی صحافت‘ کے دوران ماہرین نے کہا کہ انسانی ہمدردی پر مبنی صحافت کو محض واقعاتی رپورٹنگ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ہنگامی حالات میں متاثرہ افراد، ان کے وقار، حقوق، بقا اور بنیادی ضروریات کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے۔
ورکشاپ کا مشترکہ انعقاد انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے کیا جس میں مدیران، لکھاریوں اور مذہبی میڈیا سے وابستہ تخلیق کاروں نے شرکت کی۔ شرکا نے بین الاقوامی انسانی قانون (آئی ایچ ایل)، انسانی خدمت، صحافتی اخلاقیات اور بحرانوں کی رپورٹنگ میں مذہبی میڈیا کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مقررین کے مطابق تنازعات اور ہنگامی حالات میں میڈیا کی ذمہ داری صرف معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ درست، ذمہ دارانہ اور حساس رپورٹنگ کے ذریعے ممکنہ نقصانات کا سدباب اور عوام میں مثبت و ذمہ دارانہ ردعمل کو فروغ دینا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحرانوں کی بدلتی نوعیت، متاثرہ علاقوں تک محدود رسائی، عوامی دلچسپی میں کمی اور انسانی تکالیف و میڈیا کی توجہ کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق نے اس طرزِ صحافت کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
ورکشاپ کا افتتاح آئی پی ایس کے ریسرچ فیلو سید ندیم فرحت نے کیا جبکہ اسلامی قانون اور فقہ کے حوالے سے آئی سی آر سی کے علاقائی مشیر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی نے موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی قانون کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے ماہر ڈاکٹر ثاقب جواد نے جنیوا کنونشنز اور ان کے اضافی پروٹوکولز کا تعارف پیش کرتے ہوئے شرکا کو جنگ سے متعلق بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کیا۔
سینیئر صحافی طارق حبیب نے مسلح تنازعات اور ہنگامی حالات میں انسانی ہمدردی پر مبنی صحافت کے اصولوں اور ضوابط پر گفتگو کی جبکہ انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ عمیر حسن نے انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو درپیش چیلنجز، ان سے نمٹنے کی حکمت عملیوں اور انسانی خدمات کے دوران میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی۔
انسانی ہمدردی کے اصولوں اور اسلامی اخلاقیات پر منعقدہ مکالماتی نشست میں شرکا نے دینی تعلیمات کی عصری معنویت کو اجاگر کیا۔
علاوہ ازیں انسان دوست صحافت کی عملی تربیت کے دوران شرکا نے مختلف موضوعات پر صحافتی مواد بھی تیار کیا۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی بحران اب صرف قلیل مدتی آفات تک محدود نہیں رہے بلکہ تنازعات، نقل مکانی، تیز رفتار موسمی تبدیلیوں اور متاثرہ علاقوں تک محدود رسائی جیسے عوامل کے باعث طویل اور پیچیدہ ہنگامی صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی اہمیت کے باوجود اس پر مؤثر عمل درآمد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستانی سفیر کی سعودی عرب میں اپنے شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت
ان کے مطابق مذہبی قیادت اور دینی میڈیا انسانی اقدار کے فروغ، عوامی شعور بیدار کرنے اور متاثرہ آبادیوں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ جہاں روایتی صحافت عموماً اعداد و شمار اور فوری واقعات پر توجہ دیتی ہے، وہیں انسان دوست صحافت متاثرہ افراد کی زندگی، ان کی مشکلات اور امدادی نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس طرزِ صحافت کی بنیاد انسانیت، غیر جانبداری، عدم امتیاز، درستگی، انسانی وقار، آگاہی، رازداری اور نقصان کے سدباب جیسے اخلاقی اصولوں پر استوار ہے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی سے گریز کریں، معلومات کی تصدیق کریں، کمزور اور حساس طبقات کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ان کی رپورٹنگ کسی فرد یا گروہ کے لیے مزید صدمے، بدنامی یا عدم تحفظ کا باعث نہ بنے۔
انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کی بدلتی ہوئی نوعیت پر گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ رفاہی اداروں کی توجہ اب صرف امداد رسانی تک محدود نہیں رہی بلکہ پائیدار بنیادوں کی تشکیل، مقامی آبادی کی شمولیت، باہمی اعتماد کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی مرکوز ہے۔
مزید پڑھیں: افواجِ پاکستان کا خوف، انڈین میڈیا کا پاکستانی افسران اور خفیہ اداروں کے خلاف ناکام جھوٹا پراپیگنڈا
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی نے کہا کہ انسانی ہمدردی پر مبنی صحافت محض ایک تکنیکی مشق نہیں بلکہ انسانی وقار اور سماجی ذمہ داری کے شعور پر مبنی ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ورکشاپ سے حاصل ہونے والے علم کو بلاامتیاز انسانیت کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں اور کسی بھی بحران کی صورت میں ذمہ دارانہ اور انسان دوست صحافت کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔














