مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، اوریکل نے ایک سال میں 21 ہزار ملازمین فارغ کیے، کمپنی رپورٹ

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 21 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: اوریکل میں ہزاروں برطرفیاں: نوکری کھودینے والے ملازمین دن رات کیا سوچتے ہیں؟

بی بی سی کے مطابق کمپنی کی تازہ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31 مئی 2026 تک اوریکل کے کل وقتی ملازمین کی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 41 ہزار رہ گئی، جبکہ ایک سال قبل یہ تعداد تقریباً ایک لاکھ 62 ہزار تھی۔ اس طرح کمپنی کی افرادی قوت میں تقریباً 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے باعث ملازمین کی تعداد میں کمی کی گئی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

اوریکل کے مطابق ملازمین کی برطرفیوں اور تنظیمِ نو کے عمل پر گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 1.8 ارب ڈالر خرچ ہوئے جو اس سے پہلے سال کے 374 ملین ڈالر کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔

کمپنی نے تسلیم کیا کہ تنظیمِ نو کا عمل بعض اوقات کاروباری سرگرمیوں میں خلل پیدا کرتا ہے جبکہ بعض شعبوں میں ماہر افرادی قوت کی کمی سے پیداوار اور مالی نتائج بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا

اوریکل نے اپنے بیان میں کہا کہ جیسے جیسے اس کا کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کا کاروبار وسعت اختیار کر رہا ہے کمپنی اپنے وسائل اور افرادی قوت کو مسلسل ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہے تاکہ صارفین کو بہتر اے آئی اور کلاؤڈ سروسز فراہم کی جا سکیں۔

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری

اوریکل اس وقت اوپن اے آئی اور میٹا جیسی کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔

بی بی سی کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق کمپنی رواں سال بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر کم از کم 50 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن اب بھی کمپنی میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ملازمین کم کر رہی ہیں

مصنوعی ذہانت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث دنیا کی کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اپنی افرادی قوت میں کمی کر رہی ہیں۔

گوگل، ایمیزون اور میٹا رواں سال مجموعی طور پر تقریباً 650 ارب ڈالر مصنوعی ذہانت پر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔

مزید پڑھیں: 2025 میں دنیا کے 10 امیر ترین افراد: کن کی دولت میں کمی آئی اور کون مزید امیر بن گئے؟

ایمیزون نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ایک سال کے دوران اے آئی منصوبوں پر 200 ارب ڈالر خرچ کرے گی جو بڑی ٹیک کمپنیوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہے۔

ڈیڑھ ملین سے زائد ملازمین رکھنے والی ایمیزون پہلے ہی مختلف مراحل میں تقریباً 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

ایمیزون کے ایک سینیئر عہدیدار نے گزشتہ سال ملازمین کو بھیجے گئے ایک داخلی نوٹ میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے جدت لانے کے قابل بنا رہی ہے اس لیے اداروں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مختصر اور مؤثر انداز میں کام کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: فارمولا ون ریس میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال اور ٹیکنالوجی کا نیا دور

روزگار پر نظر رکھنے والے اداروں کے اندازوں کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زائد ٹیک ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp