کراچی میں مون سون کے دوران ساحلوں پر سیپیوں کی بھرمار، وجہ کیا ہے؟

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مون سون کے موسم میں ہر سال کراچی کے ساحلوں پر ہزاروں کی تعداد میں سیپیاں (سی شیلز) بہہ کر آجاتی ہیں جسے شہری اکثر ایک غیرمعمولی یا تشویشناک منظر سمجھتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایک قدرتی اور موسمیاتی عمل کا حصہ ہے۔

ماہرین اور مقامی ماہی گیروں کے مطابق یہ عمل ہر سال جون اور جولائی کے دوران زیادہ واضح طور پر دیکھا جاتا ہے، جب مون سون کی ہوائیں اور سمندری دباؤ میں تبدیلی ساحلی علاقوں کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نپولین کا زمانہ دیکھنے والے دُنیا کے معمر ترین کچھوے کی 191 ویں سالگرہ

سائنسی وضاحت کے مطابق مون سون کے آغاز پر سمندر کی سطحی گرم پانی کو تیز ہوائیں ساحل سے دور دھکیل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں گہرے سمندر کا ٹھنڈا اور آکسیجن سے کم پانی اوپر آتا ہے۔ اس عمل کو اپ ویلنگ کہا جاتا ہے۔ یہی پانی جب ساحلی تہہ تک پہنچتا ہے تو وہاں موجود نازک سمندری جاندار خصوصاً سیپیوں اور دیگر نرم جسم والے جانداروں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

نتیجتاً بڑی تعداد میں سیپیوں کے جاندار مر جاتے ہیں اور ان کے خول باقی رہ جاتے ہیں جو تیز لہروں کے ذریعے ساحل تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہرسال مون سون کے دوران ساحلوں پر سیپیوں کی بڑی مقدار جمع ہوجاتی ہے۔

تحقیقی مطالعات کے مطابق عربین سی میں یہ عمل ہر سال جون سے نومبر تک جاری رہتا ہے جب ٹھنڈا اور کم آکسیجن والا پانی ساحلی علاقوں کے قریب آ جاتا ہے۔ اسی عرصے میں سمندری جانداروں کی بڑی تعداد ساحل کے قریب موجود ہوتی ہے جس کے باعث ان کے متاثر ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے مشہور ساحل پر لاکھوں سیپوں کا انوکھا نظارہ، ماہرین حیران

ماہی گیر تنظیموں کے نمائندوں کے مطابق یہ رجحان کوئی نیا نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ہے اور مقامی طور پر اسے ایک قدرتی موسمی عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ہر سال مخصوص مہینوں میں اسی نوعیت کے مناظر مختلف ساحلی علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بعض برسوں میں یہ مقدار معمول سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں، جو سمندر کے اندر آکسیجن کی سطح اور سمندری حیات کے بقا کے حالات کو متاثر کرسکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گرم ہوتی ہوئی سمندری سطح نہ صرف ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں سمندری جانداروں کی اموات کی شرح بھی بڑھا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تعداد میں سیپیوں کے خول ساحل پر پہنچ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جھیل سی گہری یہ آنکھیں ایک سمندری مخلوق کی جنہیں جلد ہی نظر لگ گئی

دوسری جانب یہ سیپیاں ضائع نہیں جاتیں بلکہ مقامی سطح پر ان سے مختلف مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ ساحلی علاقوں کے کئی خاندان ان سیپیوں کو جمع کر کے صاف کرتے ہیں اور انہیں زیورات، آرائشی اشیاء، فریم اور دیگر دستکاری مصنوعات میں تبدیل کر کے بازار میں فروخت کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سیپیوں کے خول صنعتی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، جہاں انہیں مختلف جدید طریقہ کار کے ذریعے کاربن پر مبنی مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو پلاسٹک اور دیگر صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp