پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی، سیاسی، مذہبی اور عوامی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے بیورو چیف عبدالرحمان حیات کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف سفارتی روابط تک ہی محدود نہیں بلکہ ان کی بنیادیں قیامِ پاکستان سے پہلے کی مشترکہ تاریخ، مذہبی وابستگی اور عوامی اعتماد میں پیوست ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کا اعلیٰ ترین پبلک سروس ایوارڈ سعودی عرب کے نام، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی کامیابی
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران رحمان حیات نے کہا کہ جب بھی پاکستان کو معاشی یا سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا سعودی عرب نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان نے بھی ہر اہم موقع پر مملکت کے ساتھ تعاون، یکجہتی اور برادرانہ تعلقات کا مظاہرہ کیا۔
حج انتظامات کے حوالے سے سعودی عرب کی مسلسل بہتری اور جدید طرزِ حکمرانی کو سراہتے ہوئے انہں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے سالانہ انسانی اجتماع کا کامیاب انعقاد غیر معمولی انتظامی صلاحیت کا متقاضی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے حجاج کرام کو مزید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
پاکستانی حجاج کے لیے متعارف کرائی گئی ان سہولتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے تحت بعض پاکستانی ہوائی اڈوں پر ہی سعودی امیگریشن کی کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے سفر کے دوران وقت اور مشقت میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ امید ظاہر کی گئی کہ مستقبل میں یہ سہولت مزید شہروں تک توسیع پائے گی۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی، ڈاکٹر طلحہ الکشمیری
میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے رحمان حیات نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کے باوجود ایک دوسرے کے مؤقف، پالیسیوں اور ترقیاتی کامیابیوں کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عربی زبان میں پاکستان کے مؤقف اور اردو زبان میں سعودی عرب کی ترقیاتی پیشرفت کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
مستقبل کے تناظر میں سعودی وژن 2030 کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کے نئے مواقع کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت، ڈیجیٹل معیشت، ہنرمند افرادی قوت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
گفتگو میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت پاکستانی نوجوانوں اور ماہرین کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں اضافہ ہوگا جبکہ پاکستان میں جاری ترقیاتی اور زرعی منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاری اور تعاون مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وی ورلڈ: پاک سعودی تعلقات عصری اور تاریخی دونوں اعتبار سے انتہائی اہم ہیں، ڈاکٹر طلحہ
گفتگو کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض ریاستی مفادات تک محدود نہیں بلکہ عوامی اعتماد، مشترکہ اقدار، مذہبی وابستگی اور کئی دہائیوں پر محیط باہمی تعاون پر مبنی ایک منفرد شراکت داری ہیں جس کے مستقبل میں مزید مستحکم ہونے کے روشن امکانات موجود ہیں۔













