امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے حکومت کی درخواست پر اپنے نئے مصنوعی ذہانت کے ماڈل جی پی ٹی 5.6 کی مکمل عوامی ریلیز مؤخر کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی ابتدائی مرحلے میں جی پی ٹی 5.6 تک رسائی صرف محدود تعداد میں ایسے شراکت داروں کو دے گی، جن کی جانچ پڑتال مکمل ہو چکی ہے اور جن کی تفصیلات امریکی حکام کے ساتھ بھی شیئر کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز سے وابستہ قومی سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، کیونکہ امریکی پالیسی ساز طاقتور اے آئی سسٹمز کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جدید مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کے لیے ایک نیا فریم ورک تشکیل دے رہی ہے، جبکہ اوپن اے آئی بھی سیکیورٹی سے متعلق حکومتی سفارشات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
SITUATION EXPLAINED: The US government just told OpenAI not to release GPT 5.6
• The government directly asked OpenAI to hold off releasing GPT 5.6
• Sam Altman said the model is releasing in a limited preview to a small group of partners, but it wasn't their decision
• The… https://t.co/Fj2FDbv6IS pic.twitter.com/0Yc2Dyv8h8— MTS (@MTSlive) June 26, 2026
اوپن اے آئی نے اپنے ایک بلاگ میں کہا کہ محدود پیمانے پر ریلیز ایک عارضی اقدام ہے، جس کا مقصد مستقبل میں جدید اے آئی ماڈلز کی لانچنگ کے لیے حکومت کے ساتھ ایک جامع اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
کمپنی کے مطابق جی پی ٹی 5.6 کی صلاحیتوں اور لانچ پلان سے متعلق امریکی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کا اوپن اے آئی پر مقدمہ: چیٹ جی پی ٹی کی لانچنگ بنا مشاورت ہوئی، سابق رکن بورڈ
رپورٹس کے مطابق رواں ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت اے آئی ڈویلپرز رضاکارانہ بنیادوں پر اپنے جدید ماڈلز کو قابلِ اعتماد شراکت داروں کو جاری کرنے سے قبل زیادہ سے زیادہ 30 روز تک امریکی حکومت کے جائزے کے لیے پیش کر سکیں گے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ کمپنی اس دوران اپنے ماڈلز کی سخت جانچ اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی، تاہم اس نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ حکومتی نگرانی کا ایسا طریقہ کار مستقل پالیسی نہیں بننا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی مائیکروسافٹ کا براہ راست مقابلہ کرے گی، ایلون مسک کا سیم آلٹمین پر طنز
’۔۔۔کیونکہ اس سے ڈویلپرز، کاروباری اداروں، سائبر سیکیورٹی ماہرین اور بین الاقوامی شراکت داروں سمیت متعدد صارفین کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔‘
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی سیریز میں سول جی پی ٹی 5.6 کمپنی کا اب تک کا سب سے جدید ماڈل ہوگا، جبکہ ٹیرا درمیانے درجے اور لونا کم لاگت والا ماڈل ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق اوپن اے آئی نئے ماڈل کو پہلے محدود صارفین کے لیے جاری کرے گی، جس کے بعد اضافی سیکیورٹی جائزے مکمل ہونے پر اسے وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جائے گا۔












