محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ شدید گرمی کی لہر جولائی کے پہلے ہفتے تک برقرار رہے گی۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ان علاقوں کی برفانی وادیوں میں برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھلیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، گرمی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی پیشگوئی
الرٹ کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند رہنے کا امکان ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں تیزی سے پھیل سکتی ہیں اور ان میں پانی کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس صورت میں پگھلنے والے پانی کی بڑی مقدار کے باعث نئی گلیشیائی جھیلیں بھی بن سکتی ہیں۔
PMD Issues GLOF Alert for Gilgit-Baltistan and Khyber Pakhtunkhwa Amid Persisting High Temperatures. #PMD #GLOFAlert #GlacialLakeOutburstFlood #GilgitBaltistan #KhyberPakhtunkhwa #FlashFloodRisk #LandslideRisk #GlacierMelt #HeatAlert #WeatherAdvisory #DisasterRiskReduction pic.twitter.com/PAx60zaGfy
— Pak Met Department محکمہ موسمیات (@pmdgov) June 27, 2026
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ دریاؤں کے کنارے واقع نشیبی اور حساس علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ بعض مقامات پر فلیش فلڈ بھی آ سکتے ہیں۔
الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ان کے قدرتی برفانی یا پتھریلے ملبے سے بنے بند غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس سے گلوف کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ موسمی حالات پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور پتھروں کے بڑے ریلوں کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ دشوار گزار علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہیٹ ویو نے یورپ کو لپیٹ میں لے لیا، اسپین میں 212 ہلاکتیں ریکارڈ
شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں، دریا کنارے، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں میں کیمپنگ یا ٹریکنگ نہ کریں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں سپارکو نے ملک بھر میں 130 ایسی گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی تھی جو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دی گئی ہیں اور جن سے نشیبی آبادیوں کو گلوف کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے بھی شدید گرمی کے پیش نظر صوبے کے تمام اسپتالوں کو ہیٹ ویو سے متاثرہ اور ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی ایمرجنسی یونٹس قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔














