مغربی یورپ میں درجنوں ہلاکتوں کا سبب بننے والی شدید گرمی کی لہر مشرقی یورپ کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ جرمنی، اٹلی، فرانس، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ سمیت کئی ممالک میں جون کے مہینے کے درجہ حرارت کے گزشتہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
جرمن محکمہ موسمیات کے مطابق جمعے کے روز فرانس کی سرحد کے قریب شہر ساربروکن کے نزدیک درجہ حرارت 41.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے مہینے میں ملک کا نیا ریکارڈ ہے۔
مزید پڑھیں: یورپ میں شدید ہیٹ ویو نے ایئرکنڈیشنر ساز ایشیائی کمپنیوں کی جیب گرم کردی
محکمہ موسمیات نے ہفتے کے روز قریباً پورے جرمنی کے لیے شدید گرمی کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت 36 ڈگری جبکہ بعض مقامات پر 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہر موسمیات کارسٹن برانڈٹ کے مطابق گرمی کی شدت ہفتہ اور اتوار کو اپنے عروج پر ہوگی، جس کے بعد طوفانی بارشوں اور گرج چمک کا امکان ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید ہیٹ ویو قریباً ناممکن تھی۔ ان کے مطابق اس ہفتے رات کے وقت ریکارڈ کیے گئے غیر معمولی درجہ حرارت آج سے دو دہائیاں قبل کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ممکن ہو چکے ہیں۔
فرانس میں شدید گرمی کے باعث کم عمر اور بزرگ افراد سمیت درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت نے ریل سروس، بجلی کی پیداوار، تعلیمی سرگرمیوں اور بیرونی تقریبات کو شدید متاثر کیا ہے۔
اٹلی کی وزارت صحت نے 18 شہروں میں ہفتہ اور اتوار کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اٹلی کے شہر بولزانو میں جمعہ کی رات جون کی تاریخ کی گرم ترین رات ثابت ہوئی، جہاں رات بھر درجہ حرارت 25.4 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم نہیں ہوا۔
شدید موسم کے باعث جرمنی کی قومی ریلوے کمپنی ڈوئچے بان نے آئندہ ہفتے کے آغاز تک طویل فاصلے کے سفر کی بکنگ مفت منسوخ کرنے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔
کمپنی کے مطابق شدید دھوپ، گرج چمک اور جنگلاتی آگ کے خطرات کی وجہ سے ریلوے ٹریک، سگنلز اور بجلی کی تاریں دباؤ کا شکار ہیں۔
شمالی جرمنی میں ہیمبرگ کے قریب شدید گرمی کے باعث موٹروے کا ایک حصہ اسفالٹ پھٹنے کے بعد بند کر دیا گیا۔
سوئٹزرلینڈ اور اٹلی میں ہونے والی پرائیڈ تقریبات کے منتظمین نے بھی شدید گرمی کے باعث شیڈول میں تبدیلیاں کی ہیں، جبکہ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں اتوار کو ہونے والی آئرن مین یورپی چیمپیئن شپ کے سائیکلنگ اور دوڑ کے راستے مختصر کر دیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ شدید ہیٹ ویو ’اومیگا بلاک‘ نامی موسمیاتی نظام کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس میں گرم ہوا کا ایک بڑا دباؤ کسی خطے پر طویل عرصے تک قائم رہتا ہے اور ٹھنڈی ہوا کو اس علاقے میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپ کے کئی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ریکارڈ توڑ ہیٹ ویو سے یورپ جھلس گیا، فرانس میں 18 افراد ہلاک، 2 بچے گرم گاڑی میں دم توڑ گئے
شدید گرمی کے باعث یورپ بھر میں برقی پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی ایئرکنڈیشنر ساز کمپنیوں نے یورپی مارکیٹ میں فروخت میں نمایاں اضافے کی اطلاع دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی یورپ کے بیشتر مکانات گرمی سے بچاؤ کے بجائے حرارت محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے، جس کے باعث موجودہ ہیٹ ویو نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔














