سورج کی روشنی سے محروم گہرے سمندر میں قدیم زندگی کے آثار دریافت

اتوار 28 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنس دانوں نے مراکش کی قدیم چٹانوں میں ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کروڑوں سال پہلے سورج کی روشنی سے محروم گہرے سمندری حصوں میں بھی خوردبینی جاندار زندگی گزار رہے تھے۔ یہ دریافت زمین پر زندگی کے آغاز اور بقا کے بارے میں سائنسی نظریات کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

سائنس دانوں نے مراکش کی وادی دادس (Dadès Valley) میں تقریباً 18 کروڑ سال پرانی چٹانوں میں قدیم مائیکروبیل زندگی کے آثار دریافت کیے ہیں، جہاں پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ زندگی کا وجود ممکن نہیں ہونا چاہیے۔

تحقیق کے دوران یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن کی ماہر ارضیات ڈاکٹر روون مارٹنڈیل نے چٹانوں پر موجود باریک شکن نما نشانات دریافت کیے۔ عام طور پر اس طرح کے نشانات ساحلی علاقوں میں روشنی کی موجودگی میں فوٹو سنتھیٹک عمل اور بیکٹیریا کی سرگرمیوں سے بنتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق یہ چٹانیں ایسے سمندری ماحول میں بنی تھیں جو کم از کم 180 میٹر گہرائی میں تھا، جہاں سورج کی روشنی پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

تحقیق کاروں نے پہلے یہ ثابت کیا کہ یہ چٹانیں واقعی گہرے سمندر کے ذخائر کا حصہ تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے چٹانوں میں حیاتیاتی سرگرمیوں کے کیمیائی شواہد تلاش کیے۔

ماہرین کو چٹانوں کی تہوں میں کاربن کی مقدار میں اضافہ ملا، جس سے اندازہ ہوا کہ وہاں مخصوص قسم کے بیکٹیریا موجود تھے جو روشنی کے بجائے کیمیائی توانائی سے اپنی زندگی برقرار رکھتے تھے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ کیموسنتھیٹک بیکٹیریا سمندر کی تہہ پر موجود تھے، جہاں زیرِ سمندر مٹی کے بہاؤ کے ذریعے مختلف غذائی اجزا پہنچتے رہے۔ آکسیجن کی کمی جیسے مشکل حالات میں بھی یہ جاندار زندہ رہنے میں کامیاب رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زمین پر زندگی نے ایسے ماحول میں بھی بقا کے راستے تلاش کیے جہاں روشنی دستیاب نہیں تھی، اور یہ تحقیق مستقبل میں دوسرے سیاروں پر زندگی کے امکانات جانچنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp