بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں ٹیچر اہلیت امتحان (ٹی ای ٹی) کے پرچے لیک ہونے کے انکشاف کے بعد امتحان منسوخ کر دیا گیا، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر امتحانی پرچے فروخت کرنے والے افراد کو گرفتار کر لیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے ممبئی کے قریب بھیونڈی کے ایک ہوٹل پر چھاپہ مار کر تین افراد کو گرفتار کیا، جن کے قبضے سے امتحانی سوالات اور جوابات برآمد ہوئے۔ حکام کے مطابق یہ افراد دہلی سے مبینہ طور پر لیک شدہ پرچے فروخت کرنے آئے تھے۔
#MAHATet | The Maharashtra Teacher Eligibility Test (TET), scheduled for Sunday, was postponed Saturday after a question paper leak was detected in the Bhiwandi area of Thane district.
While Thane police have arrested three persons in this connection, a Special Investigation… pic.twitter.com/uJxOKlnOxv
— News18 (@CNNnews18) June 28, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ امتحان میں تقریباً 6 لاکھ امیدوار شریک ہونے والے تھے، تاہم لیکیج سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے امتحان منسوخ کر دیا۔ پولیس کے مطابق برآمد شدہ دستاویزات اصل امتحانی پیکٹ سے مطابقت رکھتی تھیں۔
مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے معاملے کی تحقیقات کے لیے 20 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جبکہ حکام نے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
یہ واقعہ بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات میں تازہ اضافہ ہے۔ اس سے قبل میڈیکل داخلوں کے لیے ہونے والے قومی امتحان NEET-UG میں بھی مبینہ طور پر پرچے لیک ہونے کے بعد کارروائی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پیپر لیک کی شرمندگی کا سامنا، بھارت نے ٹیلی گرام پر پابندی لگادی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں مختلف سرکاری امتحانات میں لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کی نگرانی، سوالناموں کی حفاظت اور نجی اداروں کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق بھارت میں سرکاری نوکری اور پیشہ ورانہ تعلیم کو معاشی ترقی کا بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث امتحانی بدعنوانی طلبہ اور خاندانوں پر شدید اثرات مرتب کرتی ہے۔














