آبی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کی جانب سے آبی معاہدوں کی خلاف ورزی اور ماحولیاتی جارحیت کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر مؤثر قانونی کارروائی کرنے کے وسیع راستے موجود ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت نہ صرف دوطرفہ آبی معاہدوں کی دھجیاں اڑا رہا ہے بلکہ وہ عالمی انسانی حقوق اور ماحولیاتی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
پاکستان قانونی چارہ جوئی کے لیے کن فورمز پر جا سکتا ہے؟
پاکستان ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں ڈاکٹر حسن عباس نے واضح کیا کہ پاکستان 1997 کے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی آبی قوانین، جنیوا کنونشن، 1966 کے ہیلسنکی رولز، برلن رولز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے کنونشنز کے تحت اپنا کیس مضبوطی سے پیش کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، عالمی امن اور سلامتی کا معاملہ بن گیا
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کی جانے والی آبی جارحیت ’ایکو سائیڈ‘ (ماحولیاتی تباہی) کے زمرے میں آتی ہے، جو بین الاقوامی قانون میں ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے۔
بین الاقوامی ثالثی عدالت اور عالمی عدالت انصاف کا کردار
ڈاکٹر حسن عباس کے مطابق پاکستان سب سے پہلے بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھا سکتا ہے۔
Water expert Dr. Hassan Abbas says, “The UN Convention of 1997 on International Water Law, like the Geneva Convention, the Helsinki Rules of 1966, the Berlin Rules, and International Human Rights Law, all these forums are available to Pakistan because India is not just violating… pic.twitter.com/TxoNofkUST
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) June 28, 2026
اس کے علاوہ ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی بنیاد پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی الگ سے مقدمہ دائر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
انسانی حقوق اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر ایکشن
ماہر آبی امور کا کہنا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ان خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھا سکتا ہے جو پانی کی بندش کے باعث عام شہریوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں، بھارت کے یکطرفہ اقدامات مسترد
انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی قوانین کی پامالی اور ایکو سائیڈ پر بھی عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنا ایک درست حکمت عملی ہوگی۔
عالمی فوجداری عدالت میں کارروائی کا امکان
ڈاکٹر حسن عباس نے ایک اہم نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کی قیادت ایسے بیانات دے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہوں، تو ایسی صورت میں بین الاقوامی فوجداری عدالت میں متعلقہ فریق کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔














