امریکا میں نوجوان ریپبلکنز کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل سے دور ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا ریپبلکن پارٹی کی اسرائیل کے لیے طویل عرصے سے جاری غیر متزلزل حمایت اب بھی برقرار رہ سکے گی۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے کریٹیکل ایشوز پول کے ڈائریکٹر اور حکومتی و سیاسی امور کے پروفیسر شِبلی تلحمی سمجھتے ہیں کہ نوجوان ریپبلکنز کے اندر یقیناً ایک نئی سوچ جنم لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اسرائیل کا نگراں نہیں، شراکت دار ہے، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے ہونے والی وسیع تباہی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے درمیان ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر اختلافات نے ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کی حمایت کو متاثر کیا ہے۔
🇺🇸🇮🇱"Netanyahu lost the Democrats. Now a growing number of Republicans are souring on him and his country, too.
Many Republican Youth turned on Israel as its military leveled Gaza. Then Netanyahu alienated Trump and his team who sought to end the Iran war" https://t.co/QUjLXvwwve— Karim Emile Bitar (@karimbitar) June 28, 2026
ماضی میں نیتن یاہو نے ڈیموکریٹک پارٹی میں اسرائیل کے لیے کم ہوتی حمایت کا ازالہ کرنے کے لیے ریپبلکنز کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے تھے، تاہم حالیہ سرویز اور دائیں بازو کی نمایاں شخصیات کی تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاص طور پر نوجوان قدامت پسندوں میں اسرائیل کی حمایت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔
اپریل میں پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق، ہر 10 میں سے 4 ریپبلکن اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جبکہ 18 سے 49 سال کی عمر کے ریپبلکنز میں یہ شرح 57 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
اس کے برعکس 50 سال یا اس سے زائد عمر کے صرف ایک چوتھائی ریپبلکنز اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ میں نسل کشی کے باوجود امریکا اسرائیل کو 6.4 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کو تیار
اسی ماہ کوئنی پیاک یونیورسٹی کے سروے میں ہر 5 میں سے ایک ریپبلکن نے کہا کہ امریکا اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کر رہا ہے، جو 3 سال قبل 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد ریکارڈ ہونے والے تناسب سے 3 گنا زیادہ ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ایک اور سروے میں صرف 46 فیصد ریپبلکنز نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو دفاعِ نفس قرار دیا، جبکہ 18 سے 34 سال کی عمر کے ریپبلکنز میں صرف 22 فیصد نے ان کارروائیوں کی حمایت کی۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل مخالف اس رجحان کو ’امریکا فرسٹ‘ نظریے کے حامی اور بیرونی مداخلت کے مخالف نمایاں قدامت پسند رہنماؤں، جن میں ٹکر کارلسن، میگن کیلی اور سابق ریپبلکن رکن کانگریس مارجری ٹیلر گرین شامل ہیں، کی تنقید نے بھی تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں: گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟
ٹکر کارلسن نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کیا اور امریکی صدر کو اسرائیلی وزیراعظم کا ’غلام‘ قرار دیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران سے متعلق معاہدے کی مخالفت کرنے والے اسرائیلی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو دنیا میں موجود اپنے واحد طاقتور اتحادی پر حملے نہ کرتے۔
دوسری جانب فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے بانی رالف ریڈ کا کہنا ہے کہ ریپبلکن اور ایونجیلیکل قیادت اب بھی اسرائیل کی مضبوط حامی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مجموعی امریکی رائے عامہ، بشمول ریپبلکن ووٹرز، میں اسرائیل کے حوالے سے سامنے آنے والے سروے نتائج ’انتہائی تشویشناک حد تک کم‘ ہیں۔














