سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، عطا اللہ تارڑ

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور بین الاقوامی برادری نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو تقویت بخشی ہے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ طور پر طے پانے والا بین الاقوامی معاہدہ ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، عالمی امن اور سلامتی کا معاملہ بن گیا

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، لہٰذا اس حوالے سے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی سیمینار منعقد ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سیمینار سے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملے گی۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ گزشتہ ایک سے 2 ماہ کے دوران پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھرپور انداز میں عالمی سطح پر اٹھایا، جس پر اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی بات ہوئی۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، عطا اللہ تارڑ

انہوں نے کہا کہ کل ہونے والے بین الاقوامی سیمینار میں بھی اس اہم مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی اور دنیا کے سامنے یہ سوال رکھا جائے گا کہ کیا دریاؤں کے بالائی حصے میں واقع کوئی ملک اپنی مرضی سے دوسرے ملک کا پانی روک سکتا ہے۔

انہوں نے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے میں رہنے والے ایک کسان اقبال سولنگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2010 کے تباہ کن سیلاب میں اس کا گھر بہہ گیا، اس نے دوبارہ زندگی سنبھالی تو 2022 کے سیلاب نے ایک بار پھر اسے بے گھر کر دیا۔ کبھی اس کی زمینیں سیلابی پانی میں ڈوب جاتی ہیں اور کبھی پانی کی قلت اس کی فصلیں تباہ کر دیتی ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ اقبال سولنگی صرف ایک فرد نہیں بلکہ پاکستان کے ان لاکھوں کسانوں کی علامت ہے، جو پانی پر انحصار کرتے ہیں اور جن کی روزی روٹی دریاؤں کے بہاؤ سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قریباً 50 فیصد آبادی کا معاشی تعلق زراعت سے ہے، اس لیے پانی کا مسئلہ محض آبی وسائل کا نہیں بلکہ قومی غذائی تحفظ اور ملکی بقا کا معاملہ ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے پرانے مؤقف اور نئے فیصلے میں تضاد سامنے آگیا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ جو ہمارے پانی پر ہاتھ ڈالے گا، اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ہم یہ اعلان کر چکے ہیں کہ جو ہمارے پانی کو ہاتھ ڈالے گا ہم وہ ہاتھ کاٹ دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس بھی پاکستان نے ثابت کیا تھا کہ اگر کوئی ملک ہماری خودمختاری پر ہاتھ ڈالے گا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور اب عالمی برادری کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کا پانی روکنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp