اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے درخواستوں پر باقاعدہ نمبر لگانے کی ہدایت کر دی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے ان کی بہن علیمہ خان جبکہ بشریٰ بی بی کی جانب سے ان کی بیٹی مبشرہ خاور مانیکا نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے دونوں درخواستوں پر سماعت کے بعد مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر
درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس نے متاثرہ فریق نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا ہے، حالانکہ علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہن اور مبشرہ خاور مانیکا بشریٰ بی بی کی بیٹی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپیلوں کے دوران بھی قیدِ تنہائی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا، جس پر چیف جسٹس نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
مزید پڑھیں: سینیٹر علی ظفر کا بشریٰ بی بی کو ریلیف کے لیے ہیومن رائٹس کمیشن سے رجوع، حکومت نے پروپیگنڈا مسترد کردیا
سلمان صفدر نے بیگم شمیم آفریدی اور ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے استدلال کیا کہ قیدیوں کے اہل خانہ کو عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔
اس موقع پر جسٹس خادم حسین سومرو نے متعلقہ فیصلے کے پیراگراف کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی، جس پر وکیل نے عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی سے دسمبر کے بعد ان کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی جبکہ بانی پی ٹی آئی سے صرف 2 ملاقاتیں چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہو سکیں۔
سلمان صفدر کے مطابق دونوں کو تقریباً 7 ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہیں ٹی وی اور اخبارات تک کی سہولت میسر نہیں اور کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ قیدِ تنہائی سخت ترین سزا ہے اور غیر معمولی قیدیوں کو بھی صرف 14 روز تک ایسی تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے۔
دورانِ سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ چیف جسٹس کے اس حکم کی نقل کہاں ہے جس میں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جس پر سلمان صفدر نے کہا کہ انہیں مصدقہ نقول کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے نیب کے پروسیکیوٹر رافع مقصود کو روسٹرم پر طلب کیا، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلوں کی سماعت کے دوران سلمان صفدر نے عدالت کو یہ نہیں بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، بلکہ صرف سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دینے کی اجازت مانگی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیدِ تنہائی سے متعلق متفرق درخواست اپیلوں میں مسترد ہو چکی ہے، اس لیے یہ معاملہ آئینی درخواست کے ذریعے نہیں بلکہ سپریم کورٹ میں اٹھایا جا سکتا ہے۔
اس پر سلمان صفدر نے نیب کے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ متفرق درخواست مسترد نہیں ہوئی اور اگر ایسا ہوا ہوتا تو وہ مصدقہ حکم نامہ عدالت میں پیش کر دیتے۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ چیف جسٹس کے بینچ نے قیدِ تنہائی سے متعلق متفرق درخواست پر کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس: عدالت میں پیش نہ ہونے پر اسپیشل پراسیکیوٹر نیب پر ایک لاکھ روپے جرمانہ
نیب پروسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ اپیلوں میں دائر متفرق درخواست اور اس سے متعلق عدالتی حکم کی نقول طلب کی جائیں۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے رجسٹرار آفس کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستوں پر نمبر لگانے کی ہدایت جاری کردی۔
عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا حتمی جائزہ جوڈیشل سائیڈ پر لیا جائے گا۔














