فرانس میں شدید گرمی سے اموات میں خطرناک اضافہ، مردہ خانوں میں جگہ کم پڑ گئی

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس میں حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی اموات کے باعث پیرس اور دیگر شہروں کے مردہ خانے گنجائش سے بھر گئے ہیں۔

جنازہ گھروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں مسلسل فون کالز موصول ہو رہی ہیں، لیکن لاشیں رکھنے کے لیے مزید جگہ دستیاب نہیں۔

پیرس کے ایک مردہ خانے کے مالک زوہائر ہرٹیلی کے مطابق ان کے کولڈ روم کی تمام 32 جگہیں بھر چکی ہیں اور وہ روزانہ سینکڑوں افراد کو معذرت کے ساتھ انکار کرنے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور تدفین کے شعبے کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے۔

فرانس کے قومی ادارہ برائے صحت عامہ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے گرمی کی شدت اپنے عروج پر پہنچنے کے دوران اموات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

بدھ کے روز، جب ملک میں تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، 1,200 سے زائد افراد انتقال کر گئے، جبکہ جمعرات اور جمعہ کو یومیہ اموات کی تعداد 1,400 سے تجاوز کر گئی۔

اس کے برعکس اپریل اور مئی میں روزانہ اوسط اموات 900 سے ایک ہزار کے درمیان تھیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ صرف 3 دنوں میں کم از کم ایک ہزار اضافی اموات کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے، تاہم گھروں اور بزرگوں کی نگہداشت کے مراکز سے مزید اموات کے اندراج کے بعد یہ تعداد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک ریکارڈ ہونے والی 85 فیصد اموات 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی ہیں، جبکہ گھروں میں ہونے والی اموات میں تقریباً 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں۔

بڑھتی ہوئی اموات کے باعث پیرس کی انتظامیہ نے مردہ خانوں کے لیے 20، 20 لاشوں کی گنجائش والے 2 عارضی کولڈ اسٹوریج یونٹ قائم کیے ہیں، جبکہ شہر کے اسپتالوں نے بھی 50 اضافی جگہیں فراہم کی ہیں۔

اس کے باوجود بعض لاشیں پیرس سے تقریباً 80 کلومیٹر دور چارتر اور دیگر علاقوں میں منتقل کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2003 کی مہلک گرمی کی لہر کے بعد، جس میں تقریباً 15 ہزار افراد جان سے گئے تھے، بزرگ اور تنہا رہنے والے افراد کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی گئی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ احتیاطی اقدامات کمزور پڑ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: 40 ڈگری سے زائد گرمی نے یورپ کو جھلسا دیا، فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی

جنازہ گھروں سے وابستہ افراد نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تنہا رہنے والے بزرگ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا خیال رکھیں۔

’ان کی خیریت دریافت کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ پانی پیتے رہیں اور شدید گرمی سے محفوظ رہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp