موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید گرمی کی لہریں اور بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت نہ صرف انسانی جسم بلکہ دماغ پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کا سنگین خطرہ: دنیا کے قریباً تمام بچے ماحولیاتی آفات کی زد میں، یونیسف

اس صورتحال کے پیش نظر سائنس دان اب تیزی سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی گرمی انسانی دماغ کی کارکردگی، رویوں اور اعصابی صحت کو کس حد تک متاثر کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق انتہائی گرمی دماغ کے کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر سکتی ہے، ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن، یادداشت کی کمزوری اور بعض اعصابی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

گرمی اور اعصابی بیماریوں کا تعلق

برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن کے ماہر اعصاب پروفیسر سنجے سیسودیا کے مطابق متعدد اعصابی بیماریاں پہلے ہی شدید گرمی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ان میں مرگی، فالج، دماغی سوزش، ملٹی پل اسکلروسس، مائیگرین اور دیگر کئی اعصابی امراض شامل ہیں۔

پروفیسر سیسودیا کے مطابق انہیں برسوں سے مرگی کے مریضوں کے اہلخانہ کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوتی رہی ہیں کہ گرمی کی شدت کے دوران مریضوں کی حالت خراب ہو جاتی ہے جس کے بعد انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور دماغی صحت کے باہمی تعلق پر تحقیق شروع کی۔

ان کے مطابق سنہ 2003 میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی لہر کے دوران اضافی اموات میں تقریباً 7 فیصد ایسے افراد شامل تھے جنہیں براہِ راست اعصابی مسائل کا سامنا تھا۔ اسی طرح کے نتائج سنہ 2022 کی برطانوی ہیٹ ویو کے دوران بھی سامنے آئے۔

دماغ گرمی سے کیوں متاثر ہوتا ہے؟

انسانی دماغ جسم کے دیگر اعضا کے مقابلے میں توانائی زیادہ استعمال کرتا ہے جس کے باعث وہ خود بھی حرارت پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسم کو مسلسل دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی کوشش کرنا پڑتی ہے۔

مزید پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی کا مشروبات کے استعمال میں اضافے سے کیا تعلق ہے؟

ماہرین کے مطابق دماغی خلیات درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی کے لیے بھی انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ اگر دماغ زیادہ گرم ہو جائے تو اعصابی خلیات کے درمیان پیغامات کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں یادداشت، فیصلہ سازی، رویوں اور دیگر ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر سیسودیا اس عمل کو ایک گھڑی سے تشبیہ دیتے ہیں جس کے تمام پرزے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

مرگی کے مریضوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

برطانیہ میں رہنے والی اسٹیفنی اسمتھ کے 13 سالہ بیٹے جیک کو ’ڈراویٹ سنڈروم‘ نامی ایک نایاب اعصابی بیماری لاحق ہے جس میں گرمی اور درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی مرگی کے دوروں کو متحرک کر سکتی ہے۔

اسٹیفنی کے مطابق ہر سال گرمیوں کی آمد ان کے خاندان کے لیے ایک نئی آزمائش بن جاتی ہے کیونکہ شدید گرمی کے ساتھ جیک کے دوروں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث طویل اور شدید گرمی کی لہریں ایسے مریضوں کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

گرمی ذہنی رویوں کو بھی بدل سکتی ہے

تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ شدید گرمی صرف جسمانی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ انسانی رویوں اور جذبات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق گرمی کی شدت انسان کو زیادہ چڑچڑا، غصے والا اور افسردہ بنا سکتی ہے جبکہ فیصلہ سازی کی صلاحیت اور توجہ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

نیند کا متاثر ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ رات کے وقت زیادہ درجہ حرارت جسم کے قدرتی حیاتیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے جس سے ذہنی صحت کے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

فالج اور دماغی بیماریوں کا بڑھتا خطرہ

تحقیقی مطالعات کے مطابق شدید گرمی فالج کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں فالج سے ہونے والی لاکھوں اموات میں سے ہزاروں اضافی اموات کا تعلق براہ راست شدید گرمی سے ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں فالج اور دیگر دماغی بیماریوں کے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

بچوں کی دماغی نشوونما پر اثرات

ماہرین خواتین اور بچوں کی صحت کے مطابق شدید گرمی حمل کے دوران بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہیٹ ویوز قبل از وقت پیدائش کے امکانات میں تقریباً 26 فیصد اضافہ کر سکتی ہیں جس کے نتیجے میں بچوں کی دماغی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور دماغی انفیکشنز

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت دماغ کو محفوظ رکھنے والی قدرتی رکاوٹ (بلڈ برین بیریئر) کو بھی متاثر کر سکتا ہے جس سے وائرس، بیکٹیریا اور زہریلے مادوں کے دماغ تک پہنچنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی ایسے مچھروں کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ کر رہی ہے جو زیکا، ڈینگی اور چکن گونیا جیسی بیماریوں کو منتقل کرتے ہیں جو اعصابی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔

’گرم دماغ‘ کا دور شروع ہو چکا ہے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سنہ 2023 میں خبردار کیا تھا کہ عالمی حدت کا دور ختم ہو چکا ہے اب عالمی ابال کا دور شروع ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے دماغ پر اثرات اب محض ایک نظریہ نہیں رہے بلکہ ایک ابھرتی ہوئی حقیقت بن چکے ہیں اور مستقبل میں یہ اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر سنجے سیسودیا کے مطابق آج جو اثرات ہم اعصابی بیماریوں میں مبتلا افراد میں دیکھ رہے ہیں ممکن ہے مستقبل میں وہی اثرات صحت مند افراد میں بھی نظر آنے لگیں۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے بھی موسمیاتی تبدیلی کے نرغے میں

یہ اسٹوری سائنسی تحقیق، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی دماغ کے باہمی تعلق کی ایک اہم اور تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp