تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

منگل 30 جون 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دو سوال ہیں: پہلا یہ کہ محمود خان اچکزئی صاحب کیا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ تحریک انصاف کے ارادے کیا ہیں؟ ان 2 سوالات کی معنویت جاننے سے پہلے تھوڑا  ماضی میں جا کر دیکھنا ہو گا کہ اچکزئی صاحب کے ارشادات عالیہ کو تحریک انصااف کل کس نظر سے دیکھتی تھی اور آج کس نظر سے دیکھ رہی ہے۔

یہ 15 دسمبر 2020 کا اخبار میرے سامنے رکھا ہے۔ تب تحریک انصاف کی حکومت تھی اور محمود خان اچکزئی  نے لاہور میں ایک خطاب فرمایا تھا۔ اس خطاب میں انہوں نےحسب عادت ، حسب روایت اپنا آموختہ دہرایا اور کہا:  ’میں کسی کو کچھ کہنے نہیں آیا، ہم نے اپنی بساط کے مطابق سامراج کا مقابلہ کیا لیکن ہمیں گلہ ہے کہ ہندو، سکھ اور دوسرے رہنے والوں کے ساتھ لاہوریوں نے بھی انگریزوں کا ساتھ دیا، آپ سب نے مل کر افغان وطن پر قبضہ کرنے کے لیے انگریزوں کا ساتھ دیا، بس اتنا کافی ہے‘۔

اس پر تحریک انصاف کے اس وقت کے وفاقی وزیر جناب فواد چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا: ’ایک بیرونی ایجنٹ آکر لاہور میں جلسہ کرے، لاہور میں کھڑا ہو کر بزرگوں کو سنائے اور آپ خاموش رہیں تو ہمارا گلہ پی ڈی ایم کی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے بنتا ہے کیونکہ انہوں نے پنجاب اور پاکستان کا دل توڑا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

فواد چودھری قار الکلامم آدمی ہیں، شروع ہو جائیں تو کامےا ور فل اسٹاپ سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ اپنی روایتی انداز میں انہوں نے مزید فرمایا: ’محمود اچکزئی جو ہر جگہ جاکر متنازع باتیں کرتے ہیں اور خود کو افغان بچہ کہتے ہیں، یہ عبدالصمد اچکزئی کے بیٹے ہیں جو کانگریس کے صدر تھے اور کانگریس پاکستان بننے کے خلاف تھی ۔ یہ لوگ نسل در نسل پاکستان کے مخالف ہیں، یہ صرف پنجاب کے مخالف نہیں، یہ پاکستان اور وفاق کے مخالف ہیں، انہوں نے اپنا کردار بیرونی طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر رکھا ہے، اس سے زیادہ ان کی حیثیت نہیں ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جس طرح محسن داوڑ کی بلوچستان میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے، وزیراعلیٰ کو اچکزئی کی پنجاب میں پابندی عائد کردینی چاہیے، کسی جگہ کسی نے بدتمیزی کردی تو مسئلہ ہوگا، بہتر ہے اس پر قانونی اقدام ہو‘۔

یہ رد عمل صرف فواد چودھری کا نہیں تھا۔  شہباز گل ان دنوں وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط  ہوا کرتے تھے ۔ انہوں نے  بھی مقطع ارشاد فرمایا کہ ’جلسے میں محمود اچکزئی نے جو زبان استعمال کی اس پر پی ڈی ایم کو شرم آنی چاہیے‘۔

آج وقت بدل چکا ہےا ور وہی اچکزئی صاحب جو کل ’بیرونی ایجنٹ‘ قرار دیے گئے تھے اور نسل در نسل پاکستان مخالف قرار دیے گئے تھے ،  آج  تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان: نام ہی کافی ہے

پاکستان تحریک انصاف سے پوچھا جانا چاہیے کہ یہ جسے آپ ’بیرونی ایجنٹ‘  اور اور نسل در نسل پاکستان مخالف  قرار دیتے تھے، وہ اچانک آپ کا اتنا پیارا اور محبوب کیسے ہو گیا کہ اتنے اراکین اسمبلی کو چھوڑ کر قومی اسمبلی میں اسے قائد حزب اختلاف بنا دیا؟

تحریک انصاف سے یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ اگر کل اچکزئی صاحب کی گفتگو پر پی ڈی ایم والوں کو شرم آنی چاہیے تھی تو کیا آج اچکزئی صاحب کی گفتگو پر تحریک انصاف کو بھی شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت ہے یا وہ اس سے بے نیاز ہے اور اس کی صفوں میں اب  یہ سہولت نہیں پائی جاتی؟

فواد چودھری صاحب سے نہ سہی ، شہباز گل سے تو یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ گرامی قدر آپ آج کل کیسا محسوس کر رہے ہیں ۔ وہ حب الوطنی کہاں خارج ہو گئی جو اقتدار کے دنوں کا اپھارہ بنی ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: امن معاہدہ اور پاکستان

ہر سیاسی رہنما کے سامنے ایک تعبیر حیات ہوتی ہے۔ ایک سمت ہوتی ہے۔  اس کے کچھ اہداف ہوتے ہیں۔ کوئی مقصدیت ہوتی ہے۔ ہر وقت حالت احتجاج میں رہنا اور اشتعال اور عصبیت انڈیلتے رہنا تو کوئی سیاست نہیں۔

سوال وہی ہے کہ اچکزئی صاحب کیا چاہتے ہیں اور تحریک انصاف کے ارادے کیا ہیں؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp