امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس میں انہوں نے صحافی اور سابق میگزین کالم نگار ای جین کیرول کے حق میں آنے والے 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کو اب عدالت کی جانب سے مقرر کردہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
ای جین کیرول نے 2019 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ بعد ازاں 2022 میں انہوں نے ایک اور مقدمہ دائر کیا، جس میں جنسی زیادتی اور ہتکِ عزت کے الزامات شامل تھے۔ یہ مقدمہ نیویارک کے اس قانون کے تحت دائر کیا گیا تھا، جس کے ذریعے ماضی میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد کو سول دعوے دائر کرنے کی اجازت دی گئی۔
غیر معمولی طور پر 2022 میں دائر کیا گیا مقدمہ پہلے سماعت کے لیے مقرر ہوا، جہاں جیوری نے ای جین کیرول کے حق میں 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا فیصلہ دیا۔
بعد ازاں 2019 میں دائر مقدمے کا بھی فیصلہ ای جین کیرول کے حق میں آیا، جس میں عدالت نے ٹرمپ کو 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ سود سمیت دونوں مقدمات میں ٹرمپ پر مجموعی واجب الادا رقم 10 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے جنسی زیادتی کیس میں ٹرمپ کی اپیل مسترد، 5 ملین ڈالر ہرجانے کا فیصلہ برقرار
فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے ای جین کیرول کی وکیل روبرٹا کیپلان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بار پھر جیوری کے متفقہ فیصلے کی توثیق کر دی ہے، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ای جین کیرول کو جنسی طور پر ہراساں کیا اور بعد ازاں ان کی ہتکِ عزت بھی کی۔ ان کے مطابق فیصلے کے خلاف ٹرمپ کی تمام اپیلیں ناکام ہو چکی ہیں اور اب وہ اپنے اقدامات کی قانونی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔
2022 میں دائر مقدمے میں ای جین کیرول نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں نیویارک کے ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور میں ٹرمپ نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ بعد میں خاتون صحافی کے الزامات کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی کتاب کی فروخت بڑھانے کے لیے یہ کہانی گھڑی۔
ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ان تمام الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مقدمے کی سماعت کرنے والے جج لیوس کیپلان نے کئی قانونی غلطیاں کیں، جن میں 2 ایسی خواتین کی گواہی جیوری کے سامنے پیش کرنے کی اجازت بھی شامل تھی، جنہوں نے برسوں پہلے ٹرمپ پر جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنا ’مشکل اور ناخوشگوار‘ تجربہ تھا ، سشمیتا سین کے انکشافات
ٹرمپ نے یہ اعتراض بھی اٹھایا تھا کہ عدالت نے جیوری کو 2005 کی مشہور ‘Access Hollywood’ ویڈیو دکھانے کی اجازت دی، جس میں وہ خواتین سے متعلق نازیبا اور جنسی نوعیت کے ریمارکس دیتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے ترجمان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جاری بیان میں کہا کہ امریکی عوام صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ ان کے خلاف جاری تمام ’سیاسی انتقامی کارروائیوں‘ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ قانونی محاذ پر کامیاب ہوتے رہیں گے اور ان کی توجہ بدستور ’امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے‘ کے مشن پر مرکوز رہے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال امریکی سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز بھی 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کے فیصلے کو برقرار رکھ چکی تھی۔ جون 2025 میں ٹرمپ کی یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی کہ پورا اپیلٹ بینچ اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اپنی درخواست میں ٹرمپ کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایک موجودہ صدر کو کئی دہائیوں پرانے اور ان کے بقول ’بے بنیاد‘ الزامات کا سامنا کرنے پر مجبور کرنا امریکی نظامِ حکومت کے لیے نقصان دہ ہے اور انہیں اپنی آئینی ذمہ داریوں سے ہٹا کر غیر ضروری قانونی کارروائیوں میں الجھایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کو جنسی زیادتی اور ہتک عزت کے الزام میں 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم
سپریم کورٹ نے اس اپیل پر کئی ماہ غور کے بعد بالآخر اسے سماعت کے لیے منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے اپنے معمول کے مطابق اس فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی قانونی ٹیم اب 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہرجانے والے دوسرے فیصلے کے خلاف بھی جلد سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
واضح رہے کہ 2023 میں جیوری کے فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ عدالت کے زیرِ انتظام اکاؤنٹ میں 55 لاکھ ڈالر جمع کرا چکے تھے، جس کے باعث امکان ہے کہ ای جین کیرول کو 50 لاکھ ڈالر کی رقم جلد ادا کر دی جائے گی۔














